ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 197
197 کلکیریا کارب ایسی چیزیں بھی کھاتا ہے جو ہضم نہیں ہوتیں مثلاً مٹی، کاغذ وغیرہ۔اکثر ایسے بچے مستقل بد ہضمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔مریض کو سر کی چوٹی پر بوجھ کا احساس ہوتا ہے، سر میں درد ہو تو ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ذہنی دباؤ سے سر درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔سر کی جلد پر خارش ہوتی ہے۔آنکھیں روشنی برداشت نہیں کر سکتیں۔پرانی قبض میں بھی کلکیریا کارب مفید ہے۔سلیشیا اور ور ٹیم البم (Veratrum Album) بھی قبض کی اچھی دوائیں ہیں۔وریٹرم البم عموماً کھلے اسہال میں کام آتی ہے اس لئے معالج کا ذہن قبض کی طرف نہیں جاتا حالانکہ یہ بخت ضدی قبض کے لئے بھی مفید ہے۔بچوں میں ایسی ضدی قبض سلیشیا سے بھی کھل جاتی ہے لیکن اگر وہ اثر نہ کرے تو ور میٹرم البم ضرور دیں۔کلکیریا کارب کی علامتیں ہوں تو وہی کام کرے گی۔اس کے استعمال سے چند دنوں میں پیٹ میں نرمی پیدا ہو جاتی ہے اور قبض آہستہ آہستہ ختم ہو جاتی ہے۔اس بیماری میں اس کا فوری اثر نہیں ہوتا۔کلکیریا کارب مردوں اور عورتوں دونوں کی اندرونی کمزوریاں دور کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔رحم کے نیچے کی طرف گرنے کے رجحان کو روکتی ہے۔یہ ماہواری نظام کی خرابیاں بھی دور کرتی ہے اور عادتا بہت زیادہ خون جاری ہونے کی بہت اہم دوا ہے۔یہ صرف بلیڈ نگ (Bleeding) ہی نہیں روکتی بلکہ اندر جو غدودیں وغیرہ بڑھ جاتی ہیں ان کا بھی علاج کرتی ہے۔جہاں کسی ایک دوا کی واضح تشخیص نہ ہو سکے حسب ذیل تین دوائیں ملا کر دی جائیں تو حیض کے دوران زیادہ خون جاری ہونے کا اکثر مؤثر علاج ثابت ہوتی ہیں۔وہ دوائیں یہ ہیں۔کلکیریا کارب، میوریکس (Murex) اور سبائنا۔30 طاقت میں چند مہینے تک دی جائیں ، شروع میں تین دفعہ روزانہ، پھر فائدہ ہونے پر صرف ایک دفعہ روزانہ کافی ہے۔رحم کی رسولیوں کا بھی یہ مؤثر علاج ہے۔کلکیر یا مزاج کی عورتوں کو بعض دفعہ بہت گاڑھا ہر وقت رسنے والا لیکوریا لاحق ہوتا ہے۔اگر ایسی مریضہ میں بار بار حمل ضائع ہونے کا رجحان بھی ہو تو کلکیریا کا رب بہت قیمتی دوا ثابت ہوتی ہے۔میں نے ایک دفعہ