ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xx
دیباچه روحانیت نہیں ہے بلکہ یہ روح کا ذکر ہے۔پروونگ(PROVING) 8 ہومیو پیتھک ادوبیہ کے اثرات معلوم کرنے کے عمل کو طریقہ آزمائش (Proving) کہا جاتا ہے۔مختلف دواؤں کے خواص جاننے کا ایک ذریعہ ہزاروں سال تک پھیلا ہوا وسیع انسانی تجربہ ہے۔انسان کو مختلف زہروں سے بار ہا واسطہ پڑتا رہا ہے جس سے ان زہروں کا مزاج کا اسے پتہ چلا ہے۔سقراط کو آج سے 2500 برس پہلے جو زہر دیا گیا اس کا نام کو نیم (Conium) تھا۔اس وقت سے پہلے سے بھی انسان کو اس زہر کے اثرات بہت حد تک معلوم تھے مگر سقراط اپنے جسم کے اندر اس زہر سے پڑنے والے بار یک اثرات جب تک اس میں سکت رہی تفصیل سے بیان کرتا رہا۔اس سے پہلے وہ دنیائے طب کو معلوم نہیں تھے جوں جوں زہر کی علامات بڑھتی گئیں وہ اپنے شاگردوں کو بتا تا رہا کہ اس ا زہر کے کیا کیا اثرات جس کے کس کس حصہ پر کس ترتیب سے پڑ رہے ہیں۔ڈاکٹر ہانیمن بھی زہروں کو نہایت خفیف مقدار میں خود اپنے اوپر استعمال کرنے کے بعد ان کے لطیف اثرات کو بڑی باریکی سے مرتب کرتارہا اور اس کے اس فعل نے سقراط کی یاد کو زندہ کر دیا ڈاکٹر ہانیمن نے یہ بھی معلوم کیا کہ جوز ہر تجربہ کی خاطر کسی صحت مند انسان کو بہت تھوڑی مقدار میں بار بار دیا جائے اس سے اس زہر کی بہت بار یک علامتیں بھی نکھر کر سامنے آجاتی ہیں اور اس کا یہ اثر مستقل نہیں رہتا۔زہر کے اثرات تفصیل سے جانچنے کے اس طریق کو Proving کہا جاتا ہے۔ہانیمن کے طریق پر ہی بعد میں کئی ہومیو پیتھک اطباء نے نئے نئے زہروں کو اپنے اوپر آزمایا اور ان کے تفصیلی اثرات مرتب کئے اور اس طریق پر ہومیو Materia madica (میٹریا میڈیکا) میں نہایت مفید اضافہ کرتے چلے گئے۔مگر جہاں تک Proving کے اس طریق کا تعلق ہے ہانیمن کے اصولوں کے پیش نظر کسی ایک شخص کی