ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 141
بیلاڈونا 141 بھی بیلا ڈونا سودمند ثابت ہوتا ہے۔بشرطیکہ گردے یا مثانے میں انفیکشن کی وجہ سے ایسا ہوورنہ براہ راست بیلاڈونا میں پیشاب کے بار بار آنے کی علامت موجود نہیں۔اگر کسی دوا سے گردے کی پتھری کسی دوا سے پارہ پارہ ہو کر پیشاب کے رستے نکلنے لگے تو پیدا ہونے والی سوزش کا علاج بیلاڈونا سے بھی ممکن۔اگر رحم میں تیزی سے واقع ہونے والے شیخ کے دورے پڑتے ہوں اور یہ تکلیف گرمی سے بڑھتی ہو تو بیلا ڈونا سے اس کا فوری مؤثر علاج ہو سکتا ہے۔بچے کی پیدائش کے بعد زچگی کی حالت میں اگر اچانک شدید خون بہنے لگے تو بیلا ڈونا بہت اچھی دوا ہے۔اس میں بیلا ڈونا بیماری کا رجحان دائیں طرف زیادہ ہو گا اور گرمی سے تکلیف بڑھے گی۔وہ حاملہ عورتیں جن میں حمل ضائع ہونے کا خدشہ رہتا ہے اگر وہ بہت نازک طبع اور حساس ہوں، آوازوں اور قدموں کی چاپ بھی برداشت نہ کر سکیں ، اعصاب زودحس ہو جائیں تو ان میں حمل ضائع ہونے کے رجحان کو روکنے کے لئے بیلا ڈونا بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔بیلاڈونا کے مریض کی کھانسی کی آواز عمو مازور دار اور بھیا نک ہوتی ہے۔بیلا ڈونا اگر چہ عارضی دوا ہے لیکن شروع ہی سے علامتیں پہچان کر دی جائے تو مزید بیماریاں پیدا نہیں ہوتیں۔بیلا ڈونا کی ایک علامت ٹانگوں میں Cramps یعنی اینٹھن کارجحان بھی ہے۔بیلا ڈونا میں شیخ سر کو پیچھے کی طرف کھینچتا ہے۔بیلا ڈونا کی طرح ایپس میں بھی گرمی کی شدت اور سوجن کی علامت پائی جاتی ہیں۔بیلا ڈونا اور انہیں میں فرق یہ ہے کہ بیلا ڈونا میں چونکہ ماؤف حصہ کے علاوہ باقی جسم ٹھنڈا ہوتا ہے اس لئے مریض گرم ہونا چاہتا ہے اور اپنے آپ کو گرم کپڑوں میں پیٹتا ہے۔انہیں میں مریض کا سارا جسم جلتا ہے اور اسے کسی قسم کی گرمی برداشت نہیں ہوتی بلکہ اگر ایسے مریض کو آگ کے سامنے بٹھا دیا جائے تو شیخ شروع ہو جاتا ہے۔بیلاڈونا اور انہیں دونوں کے مریضوں کو گرمی سے چھپا کی نکل آتی ہے۔پلسٹیلا میں بھی