ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xiv of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xiv

دیباچہ 2 اس کے بعد ایک اور واقعہ ہومیو پیتھی میں میری دلچسپی کا موجب یہ بنا کہ جب میری شادی ہوئی تو میری اہلیہ آصفہ بیگم (رحمہا اللہ ) کو ایک پرانی تکلیف تھی جس کا انہوں نے مجھ سے ذکر کیا۔حضرت اباجان کے پاس ہو میو پیتھی کی کتابیں بہت تھیں۔میں نے سوچا کہ ان میں سے کوئی دوائی ڈھونڈتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کا ایسا تصرف ہوا کہ پہلی کتاب کو جس جگہ سے میں نے کھولا وہاں ایک دوائی نیٹرم میور (Natrum Mur) کی جو علامات درج تھیں وہ بالکل وہی تھیں جو آصفہ بیگم نے بتائی تھیں۔وہ دوا میں نے اونچی طاقت میں انہیں دی۔ان کو اس کی ایک خوراک سے ہی ایسا آرام آیا کہ پھر کبھی زندگی بھر وہ تکلیف دوبارہ نہیں ہوئی۔اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ ہو میو پیتھی خواہ میری سمجھ میں آئے یا نہ آئے ، اس کا فائدہ ضرور ہوتا ہے اور اس میں ضرور کچھ حقیقت ہے۔اس کے بعد میں نے حضرت ابا جان کی لائبریری سے ہومیو پیتھی کی کتابیں لے کر پڑھنا شروع کیں۔بعض اوقات ساری ساری رات انہیں پڑھتا رہتا۔لمبا عرصہ مطالعہ کے بعد میں نے دوائیوں اور ان کے مزاج سے واقفیت حاصل کی اور ان کے استعمال اور خصوصیات کا اچھی طرح ذہن میں نقشہ جمایا اور پھر مریضوں کا علاج شروع کیا۔ہو میو پیتھی کی ایجاد ہومیو پیتھی کے موجد کا نام ڈاکٹر ہانیمن ہے جو 1755ء میں Saxony میں پیدا ہوا۔اس کا پورا نام سیموئیل کرسچن فرائیڈرک ہانیمن (Samuel Christian Friedrich Hannemann) تھا۔اسے زبانیں سیکھنے کا بڑا شوق تھا۔چنانچہ اس نے آٹھ زبانوں پر عبور حاصل کیا اور ابھی اس کی عمر صرف 12 سال کی تھی کہ اس نے یونانی (Greek) زبان پڑھانی شروع کر دی اور اس طرح چھوٹی عمر میں ہی زبانوں کا استاد بن گیا۔اس نے لائپسگ (Leipzig) ( آسٹریا) میں ڈاکٹری پڑھنی