ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 839 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 839

Millefolium Rhus Tox انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) فاسفورس سورا مینم 840 Phosphorus ملی فولیم Plumbum Psorinum رسٹاکس 11۔پتے کی تکالیف جس کے ساتھ ذیا بیٹیس کی پیچید کی ہو پتے کے درد اور تشیع میں مریض سخت جلن اور درد محسوس کر رہا ہو تو بیلا ڈونا کی اونچی طاقت میں ایک دوخوراکیں دس پندرہ منٹ کے بعد دہرانے سے اللہ کے فضل سے آرام آجاتا ہے۔بیلاڈونا کے عارضی استعمال کے بعد مستقل علاج جاری رکھنا چاہئے۔سلفر اور لائیکو پوڈیم مستقل علاج کے طور پر وقتاً فوقتاً استعمال کرنی پڑتی ہیں۔ان دونوں کا صفراء پر گہرا اثر پڑتا ہے۔صفراء وہ زردی مائل مادہ ہے جو جگر میں بنتا ہے اور کھانا ہضم کرنے میں مدددیتا ہے۔اکثر اسی کی خرابی سے پتے میں پتھریاں بننے کا رجحان پیدا ہوتا ہے۔پتے کی پتھری میں چیلی ڈونیم (Chelidonium) بھی بہت مفید ہے، اس کا درد پیچھے کمر کی طرف پھیل جاتا ہے جبکہ بر برس (Berberis) کے مریض کا درد چاروں طرف پھیلتا ہے۔چائنا(China) بھی پتے کے درد کے لئے مفید ہے۔اسی طرح نیٹرم سلف (Nat Sulph) کا با قاعدہ استعمال بھی پتے کی پتھریوں کو گھلا دیتا ہے۔اگر پتے کی تکلیف کے ساتھ پیشاب میں شوگر آئے اور پیشاب کی رنگت کسی سے ملتی جلتی ہو اور مقدار میں بہت زیادہ ہو تو ان علامات میں خصوصی دوا ارجنٹم میلیکم (Argentum Metallicum) ہے۔کالی کا رب کے مریض میں بھی پتہ کی تکلیف اکثر ذیا بیطیس کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔مثانہ بہت حساس ہو جاتا ہے اور ذرا سا بھی دباؤ برداشت نہیں کر سکتا۔ایسا مریض جس میں ذہنی کمزوریوں کی علامتیں ظاہر ہو کر رفتہ رفتہ بڑھ رہی ہوں اور