ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 833 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 833

انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 834 سے چکر زیادہ آئیں تو یہ تینوں علامتیں مل کر کو نیم (Conium) کی نشاندہی کرتی ہیں۔آنکھیں زرد، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے ، آنکھوں میں جلن اور درد جیسے کسی نے چاقو گھونپ دیا ہو نظر کا دھندلا جانا، بینائی کی بڑھتی ہوئی کمزوری ،خون بہنے کارجحان ، روشنی نا قابل برداشت، یہ تمام علامتیں کروٹیلس (Crotalus) میں پائی جاتی ہیں۔آنکھوں کی سرخی اور زخم ، پوٹوں پر دانوں یا آبلوں کا پایا جانا اور آنکھوں میں سوزش ہو تو کروٹن (Croton) مفید ہے۔کروٹن کی مزید علامتیں یہ ہیں۔آنکھوں کے سامنے بجلی سی لہراتی اور ستارے چمکتے ہوئے دکھائی دینا، نیچے جھکنے سے سیاہ دھبے نظر آنا ، درد، دباؤ، خون کا غیر معمولی اجتماع۔جیسے ریت کے ذرات سوزش پیدا کر رہے ہوں اور روٹا (Ruta) کی طرح بار یک نظر کے کام کرنے سے بہت تکلیف۔باریک کام سے اگر آنکھوں میں درد کی بجائے سر درد ہو تو اونو سموڈیم (Onosmodium) مفید دوا ہے۔آنکھ کا چھپر اگر فالجی کمزوری کی وجہ سے گر جائے تو حسب ذیل چار دوائیں زیر مطالعہ آنی چاہئیں۔ایگیریکس (Agaricus) ، پلمبم (Plumbum)، سینیگا(Senega) اور کاسٹیکم (Causticum) کورنیا کے اندر چھوٹے چھوٹے داغوں کا پایا جانا بھی سینیگا کی نمایاں علامت ہے۔کورنیا کے السر میں سلیشیا (Silicea) بہت مفید ہے۔اسی طرح کلکیر یا فلور بھی آنکھوں کی بیماریوں سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔اچانک سردی لگ جائے اور آنکھ میں درد ہو تو سپائی جیلیا (Spigelia) دوا ہے۔سپائی جیلیا کے باب میں آنکھ کی بیماریوں کا مطالعہ مفید ثابت ہوگا۔آنکھ کے اعصابی درد کے لئے لاک فل (Lac Felinum) بھی مفید دوا ہے جو بلی کے دودھ سے تیار کی جاتی ہے۔آنکھوں میں درد ہو، سرخی پائی جائے، پانی بہتا ہو، آنکھ کھولنے اور بند کرنے سے تکلیف میں اضافہ ہو ، آنکھوں کی جلن نیز پڑھنے سے آنکھوں میں درد ہو تو سٹر وشیم کارب (Strontium Carb) دوا ہے۔اگر آنکھ کی بیماریوں کا اثر دائیں طرف زیادہ ہو، دائیں آنکھ میں دھند ، نظر کی کمزوری