ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 786 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 786

سلفر 786 دینے سے ہیضہ سے بچاؤ ہو جاتا ہے۔اگر اور دوائیں جو عموماً ہیضہ میں کام آتی ہیں میسر نہ ہوں تو سلفر ہی ایک حد تک اکیلی کافی ہوسکتی ہے۔اس کا ہیضہ سے بہت گہرا تعلق ہے۔سلفر پراسٹیٹ گلینڈز پر بھی گہرا اثر رکھتی ہے اور اسے تھو جا کے ساتھ ملا کر دینا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔اگر مریض کے ہاتھ پاؤں اور بغلوں میں بدبودار پسینہ نہیں آتا اور اس کے ہاتھ پاؤں اور سر کی چوٹی کی علامتیں مختلف ہیں تو محض پیشاب کی علامتوں کے مشابہ ہونے کے باعث سلفر کام نہیں کرے گی۔سلفر مردانہ وزنانہ کمزوریوں میں مفید ہے۔عورتوں کے بانجھ پن میں بھی سلفر کو اہم مقام حاصل ہے۔سلفر کے مریض کی ذہنی علامات بہت نمایاں ہوتی ہیں۔یادداشت کمزور ہوتی ہے اور سوچ بچار میں دشواری محسوس ہوتی ہے۔سردرد جس میں جھکنے سے اضافہ ہو جاتا ہے اور دائگی سردرد جو عین وقفوں سے عود کر آتا ہے۔خشکی سے بال بھی گرتے ہیں۔یہ سب علامتیں سلفر کی یاد دلاتی ہیں۔سلفر کے مریض کو سینہ پر دباؤ اور جلن کا احساس رہتا ہے۔سانس رکتا ہے اور کھلی ہوا پسند کرتا ہے۔آدھی رات کو دم گھٹتا ہے اور سینے پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔سلفر کے مریض کی تکلیفیں آرام کرنے ، کھڑے ہونے ، بستر کی گرمی سے نہانے سے اور صبح کے وقت بڑھ جاتی ہیں۔گرم موسم میں دائیں کروٹ لیٹنے سے آرام آتا ہے۔وہ لوگ جو کوئلے کی کانوں میں کام کرتے ہیں یا کسی اور رنگ میں کو سلے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے لئے بھی سلفر بہت ضروری دوا ہے کیونکہ یہ کوئلے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بہت سی بیماریوں میں مفید ہے۔مددگار دوائیں ایلو سورائینم ایکونائٹ۔آرنیکا سٹیم۔پائیر وجینم تھوجا وغیرہ۔طاقت: 30 اور اونچی پوٹینسیاں