ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 770
ٹینم سٹینم کی علامتیں پائی جاسکتی ہیں۔770 سٹینم جلد پکھل جانے والی دھات ہے اور اس سے بنی ہوئی دوائیم بلغم کو بھی جلد پچھلا دیتی ہے۔اگر پھیپھڑے بھاری ہو جائیں اور سوزش کی وجہ سے مفتی پیدا ہو جائے تو سٹینم بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔اس میں دردیں دن کو بڑھتی ہیں۔سورج چڑھنے سے تکلیف کا آغاز ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور دن ڈھلنے کے ساتھ ساتھ تکلیف میں کمی ہونے لگتی ہے جو غروب آفتاب کے وقت بالکل ختم ہو جاتی ہے۔دھوپ سے سر درد میں اضافہ ہو تو نیٹرم میور اور سینگو نیر یا وغیرہ مفید ہیں۔سٹیم بھی ان میں شامل ہے۔سٹیم میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اگر سردی لگے تو اعصاب پر حملہ ہو جاتا ہے اور منہ پر اعصابی درد میں شروع ہو جاتی ہیں۔سٹیم میں ایک اور علامت یہ ہے کہ چھاتی میں کمزوری محسوس ہوتی ہے اور بولنے سے یوں لگتا ہے جیسے اندر سے چھاتی جواب دے گئی ہے۔سٹینم میں چھاتی کمزور ہو جاتی ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے پھیپھڑوں میں جان نہیں رہی۔سینے کی کمزوری کی وجہ سے آواز نہیں نکلتی اور بولنے کی طاقت میں کمی آجاتی ہے۔کئی ایسے مریض ہیں جن کو یہ تکلیف مستقل ہو جاتی ہے۔ایسے لوگوں کو اونچی طاقت میں سٹینیم دینی چاہئے۔پندرہ بیس دن کے بعد اونچی طاقت کی ایک ایک خوراک چند ماہ تک استعمال کریں تو حیرت انگیز انقلابی تبدیلیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔جہاں بھی سل کی علامتیں پائی جائیں ، وہاں تعلیم کافی مددگار دوا ثابت ہوتی ہے۔سٹیم کی ایک اور علامت منتقلی بھی ہے۔کھانا پکانے کی بو سے بھی کا ٹھیکم کی طرح متلی ہوتی ہے اور منہ کا مزہ کڑوا ہو جا تا ہے۔معدہ خالی ہونے کا احساس رہتا ہے اور خالی پن کے احساس کے ساتھ شیخ بھی ہوتا ہے۔کمزوری کا احساس غالب ہوتا ہے خصوصاً سینے میں زیادہ کمزوری محسوس ہوتی ہے۔بات کرنا بھی مشکل لگتا ہے۔خشک کھانسی اٹھتی ہے جو ہنسنے، بولنے اور گانے سے بڑھ جاتی ہے۔سٹیم کا مریض ہمیشہ تھکا ہوا رہتا ہے اور