ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 762 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 762

سپائی جیلیا 762 سپائی جیلیا کام نہ کرے تو دوسری بالمثل ہومیو دواؤں کی تلاش کرنی چاہئے۔آنکھوں کا درد جو اعصاب سے تعلق رکھتا ہو اور سردی لگنے سے شروع ہو اس میں درد کی لہریں آنکھ کے اعصاب میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔سپائی جیلیا کے درد سارے جسم میں دوڑتے پھرتے ہیں۔سپائی جیلیا دل کی بعض بیماریوں میں بھی بہت مفید ہے۔پیری کارڈائیٹس (Pericarditis) اور اینڈ وکارڈائیٹس (Endo Carditis) دونوں میں سپائی جیلیا کام آتی ہے۔ان کی تفصیل یہ ہے کہ پیری کارڈائیٹس دل کے اردگرد کی جھلیوں میں سوزش کو کہتے ہیں جس کی وجہ سے بخار اور سینے میں درد ہوتا ہے اور اینڈو کا رڈائیٹس دل کی جھلی اور والو کی سوزش کو کہتے ہیں جوعموماً بیکٹیریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے۔سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔بخار ہو جاتا ہے اور دل کا فعل درست نہیں رہتا۔سپائی جیلیا کی دماغی علامات میں کمزور یادداشت، ہر چیز سے بے رغبتی ، بے چینی اور پریشانی نمایاں ہوتے ہیں۔اچانک اٹھ کر کھڑا ہونے پر چکر آتے ہیں غالبا بلڈ پریشر کم یا زیادہ ہو جاتا ہے یا بعض دفعہ کان کے مائع کا توازن برقرار نہیں رہتا۔کان کی انفیکشن سے بھی ایسا ہوسکتا ہے۔سخت درد کے باوجود غنودگی سی رہتی ہے۔سر اونچا کر کے لیٹنے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔اگر مریض سامنے کی طرف جھکے تو تکلیف بڑھتی ہے۔سپائی جیلیا میں درد دائیں اور بائیں دونوں طرف ہوتے ہیں لیکن عام طور پر سپائی جیلیا بائیں طرف کی دوا ہے اور سینگونیر یا دائیں طرف کی۔سپائی جیلیا سے اثر پذیر ہونے والا جو درد گدی سے شروع ہوتا ہے وہ کبھی دائیں طرف اپنا مقام بناتا ہے اور کبھی بائیں طرف اور اس میں دھڑکن ہوتی ہے اور درد کی لہریں دوڑتی پھرتی ہیں۔یہ درد ماتھے پر آ کر کبھی دائیں اور کبھی بائیں آنکھ میں ٹھہر جاتا ہے۔درد کے ساتھ یہ احساس ہوتا ہے کہ سر پر کس کر کپڑا بندھا ہوا ہے۔بعض دفعہ درد کی شدت سے مریض ٹھنڈا ہو جاتا ہے ، پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور الٹیاں آنے لگتی ہیں۔ایسے مریض کو فوراً گرم لحاف اوڑھا کر قہوہ وغیرہ پلانا چاہئے اور بلا تاخیر سپائی جیلیا شروع کرا دینی چاہئے۔