ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 700 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 700

پائیر و بینم 700 سے فائدہ ہوتا ہے۔پائیر وجینم میں فاسفورس کی طرح ٹھنڈا پانی پینے کی شدید خواہش ہوتی ہے لیکن معدہ میں پانی گرم ہو کر تے آ جاتی ہے۔اگر چہ پائیر وجینم کا مریض بہت سخت ٹھنڈا ہوتا ہے اور سردی کا احساس اس کی ہڈیوں تک سرایت کر جاتا ہے لیکن اسے شدید ٹھنڈا پانی پینے کی پیاس لگی رہتی ہے۔ایسی صورت میں پائیر وجینم کو فاسفورس کے ساتھ ملا کر دیا جا سکتا ہے۔اگر منہ سے بہت سخت بدبو آئے تو پائیر وجینم بھی مفید دوا ہو سکتی ہے۔ایسے مریض اگر بہت سردی محسوس کریں تو پائیر وجینم اور سورائینم کو ملا کر دینا اکیلا اکیلا دینے سے بہتر ہے۔میں نے ٹائیفائیڈ کے ہر قسم کے مریضوں کو پائیر وجینم اور ٹائیفائیڈ مینم 200 طاقت میں ملا کر دینا بے حد مفید پایا جاتا ہے۔میرے والد ٹائیفائیڈ میں ہمیشہ اسے استعمال کرتے تھے اور غالباً وہی اس مرکب کے موجد ہیں۔اس کے ساتھ کالی فاس اور فیرم فاس 6x میں ملا کر دن رات میں سات آٹھ بار دینی چاہئے۔لیکن اگر ایسے مریض کو بد بودار اسہال بھی آتے ہوں تو پٹیشیا 30 طاقت کی اسی طرح تکرار بہت مفید پائی گئی ہے۔پائیر وجینم ایسے ملیریا میں بھی اثر دکھاتی ہے جو عام دواؤں سے قابو نہیں آتا۔مریض کو بہت سردی لگتی ہے، آرسنک کی طرح بے چینی ہوتی ہے اور اخراجات بہت بد بودار ہوتے ہیں۔مویشیوں میں بھی اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد آنول رہ جائے اور پرسوتی بخار ہو تو پائیر وجینم اور سلفر 200 کا نسخہ انسانوں کی طرح مویشیوں پر بھی برابر اثر انداز ہوتا ہے۔گردوں کی سوزش (Nephritis) کے لئے بھی مفید ہے۔اگر یہ علم ہو جائے کہ کسی زمانے میں مریض کو تعفنی بخار ہوا تھا اور اس کے بعد گردے جواب دے گئے تو پائیر وجینم بہت مفید ہے۔پائیر وجینم کی ایک علامت یہ ہے کہ تیز بخار میں دل کی دھڑکن نسبتا آہستہ ہو جاتی ہے۔اگر دل کی دھڑکن کا توازن بگڑ جائے تو یہ پائیر بینم کی خاص علامت ہوتی ہے۔