ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 696
پلسٹیلا 696 علامت ہے۔یہ سب دوائیں اپنے اپنے دائرہ کار میں علامتوں کے مطابق کام کرتی ہیں۔پلسٹیلا کے مریض کو حرکت سے آرام آتا ہے۔اس لحاظ سے یہ رسٹاکس سے جزوی طور پر مشابہ ہے۔نمی کے لحاظ سے بھی ان دونوں میں مشابہت ہے۔نم موسم میں بداحتیاطی کی وجہ سے پیدا ہونے والی نزلاتی تکلیفوں میں پلسٹیلا اور رسٹاکس دونوں کام آتی ہیں۔بدلتے ہوئے موسم میں کام آنے والی اور دواؤں کے علاوہ ڈلکا مارا کو بھی شہرت حاصل ہے مگر یہ تب علامتی دوا ہوگی اگر بدلتا ہوا موسم نم بھی ہو۔پلسٹیلا حمل گرنے کے رجحان کو روکنے کے لئے بھی مفید دوا ہے۔بسا اوقات رحم میں جنین کی بجائے کوئی لوتھڑا سا بن جاتا ہے جو بے جان ہوتا ہے۔پلسٹیلا اس لوتھڑے کو پکھلا دیتی ہے۔اس میں حیض کے دوران شدید تشنجی درد ہوتا ہے۔کبھی کبھی ایسے درد کے دورے پڑیں تو پلسٹیلا مفید ہے لیکن اگر یہ رجحان زیادہ ہو تو نیٹرم میور کو اولیت دیں جو پلسٹیلا کی مزمن ہے۔اگر نو جوان بچیوں کو بلوغت کے آغاز میں ہی یہ تکلیف ہو تو کلکیر یا فاس بھی بہت کارآمد ہے۔رحم کے گرنے کے رجحان میں بھی پلسٹیلا مفید ہے۔اس میں اور بھی بہت سی دوائیں کام آتی ہیں جن میں علامتوں کے لحاظ سے فرق کرنا چاہئے۔بعض عورتوں کی چھاتیوں میں حمل اور بچے کی پیدائش کے بغیر بھی دودھ اتر آتا ہے۔پلسٹیلا اس کیفیت میں بہت مفید ہے۔اس کے علاوہ مرکیورس اور سائیکلیمن بھی مفید ہیں۔ایسی مائیں جن کو دودھ لم آتا ہو ان کو عموماً پلسٹیلا فائدہ دیتی ہے۔اگر پیدائش کے بعد گندگی و غیرہ پوری طرح خارج نہ ہو تو پلسٹیلا اس کی صفائی میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔رحم کی عام صفائی میں پلسٹیلا بہت مفید ہے لیکن اس کا استعمال پر سوتی بخار سے پہلے پہلے ہو تو کام آتی ہے۔بخار ہو جائے تو سلیشیا یا سلفر اور پائیر و جینم کام دیں گی۔اگر رحم میں بچے کی پوزیشن الٹی ہو تو پوزیشن درست کرنے میں پلسٹیلا 200 کو بہت شہرت حاصل ہے۔پیدائش کے وقت اگر در دیں کمزور ہوں تو ان کو طاقت دینے کے لئے بھی پلسٹیلا مفید ہے۔بعض ڈاکٹر روٹین میں نواں مہینہ شروع ہوتے ہی پلسٹیلا شروع کروا دیتے ہیں۔اس کے اچھے اثرات دیکھے گئے ہیں لیکن دردیں شروع ہونے