ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 682 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 682

سورائینم 682 تو خارش شروع ہو جاتی ہے۔سلفر سے اس جزوی مشابہت کے باوجود ان کے مزاج الگ الگ ہیں اور پہچان بہت نمایاں ہے۔سورا ئینم کی ایک علامت ایسی ہے جو کسی اور دوا میں موجود نہیں اور سلفر کا تو اس سے دور کا بھی تعلق نہیں وہ یہ کہ بعض دفعہ نو جوان بچوں کے سر کے بال بکثرت سفید ہونے لگتے ہیں اور متعدد لیں سفید ہو جاتی ہیں تو اس میں سوراٹینم سے بہتر دوا میرے علم میں نہیں۔سورا نینم ایک ہزار طاقت میں ہفتہ وار استعمال کرنے سے کچھ عرصہ کے بعد ہی جڑوں سے سیاہ بال نکلنے لگتے ہیں۔بالوں کا اوپر کا حصہ جو سفید ہو چکا ہو وہ تو کال نہیں ہوتا لیکن نیچے سے اگنے والا بال کالا ہوتا ہے۔زندگی کے عام دستور کے مطابق بڑی عمر میں جو بال سفید ہوتے ہیں معلوم نہیں ان پر سورا ئینم اثر انداز ہوتی ہے یا نہیں۔شاذ صورتوں میں دیکھا گیا ہے کہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر ایک بار پھر کالے بال اگنے لگتے ہیں۔میں نے خود ایسی خواتین دیکھی ہیں جن کے بال بڑی عمر میں پہنچ کر دوبارہ کالے ہو گئے۔خدا تعالیٰ ہی اس نظام کو بہتر طور پر جانتا ہے۔لیکن اگر کوئی ہومیو پیتھ ایسی تیر بہدف دوا معلوم کر لے جو ہر بوڑھے کے سفید بالوں کو کالا کر دے تو وہ دنیا کا امیر ترین آدمی بن سکتا ہے۔آرنیکا اور سورائیم کو مختلف طاقتوں میں ملا کر دینے کا تجربہ کرنا ایک صلائے عام ہے۔ہو سکتا ہے ٹھنڈے مزاج کے بوڑھوں میں یہ نسخہ کارگر ثابت ہو۔سورا ئینم کی جلدی امراض گریفائٹس سے بھی مشابہ ہیں۔دونوں کے ایگزیما میں زخموں پر کھرنڈ آ جاتے ہیں جن کی نچلی تہوں سے بد بودار پیپ نکلتی ہے اور زخم از سرنو تازہ ہو جاتے ہیں۔سورائینم میں زخموں کی بد بو گریفائٹس اور دیگر دواؤں کے مقابل پر بہت نمایاں ہوتی ہے۔یہ بو نا قابل برداشت ہوتی ہے، زخموں میں سخت خارش ہوتی ہے اور کھجلانے پر خون بہنے لگتا ہے۔جلد میلی میلی اور خشک سی ہوتی ہے۔تمام جسم پر کھرنڈ والے ابھار بن جاتے ہیں اور زخم جلد مندمل نہیں ہوتے۔سور ایٹم میں آنکھوں کے چھپر متورم اور چسکے ہوئے ہوتے ہیں۔پیوٹوں کے۔کنارے سرخ ہو کر سوج جاتے ہیں۔یہ علامت اور بھی بہت دواؤں میں پائی جاتی ہے۔