ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 642
نکس وامیکا 642 نکس وامیکا بھوک لگانے کی بھی بہت اچھی دوا ہے اور بھوک مندمل کرنے کی بھی۔جن مریضوں کو بھوک کے دورے پڑتے ہوں انہیں نکس وامی کا استعمال کرنی چاہئے۔اکثر ایسے مریضوں کو جن کو بھوک کے دوروں کے بعد دمہ شروع ہو جائے اگر انہیں ان دنوں نکس وامیکا شروع کر وا دیا جائے تو دمہ نہیں ہوتا۔نکس وامیکا میں سردرد زیادہ تر آنکھوں کے اوپر سے شروع ہو جاتا ہے جو ڈیلوں کی حرکت سے بہت شدید ہو جاتا ہے اور نشتر کی طرح چبھن محسوس ہوتی ہے۔دھوپ میں جانے سے یا روشنی میں آنکھیں کھولنے سے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔صبح کے وقت اور کھانے کے بعد تکلیف بڑھ جاتی ہے۔بعض اوقات سر درد کے ساتھ نکسیر بھی شروع ہو جاتی ہے،سخت قبض ہوتی ہے۔سردرد کا بواسیری مسوں سے بھی تعلق ہے۔مریض شور بالکل برداشت نہیں کر سکتا اور چھونے کے احساس کو بھی پسند نہیں کرتا۔منہ کا مزہ خراب ہو جاتا ہے، صبح کے وقت متلی ہوتی ہے لیکن الٹی نہیں آتی۔کھانے کے بعد یا کھانے کے دوران معدہ میں بوجھ اور درد کا احساس ہوتا ہے۔معدہ کی جگہ پر ذرا سا دباؤ بھی برداشت نہیں ہوتا۔معدے کا نچلا حصہ پھولا ہوا اور پھر کی طرح بوجھل ہوتا ہے۔دمہ کے آغاز میں بد ہضمی کے دورہ سے ایک دن پہلے کھانسی شروع ہو جاتی ہے اور سینے میں بلغم کھڑ کھڑانے کا احساس ہوتا ہے۔خشک ہنگی پیدا کرنے والی کھانسی جس کے ساتھ کبھی خون کی آمیزش بھی ہوتی ہے اور کھانسنے پر سر اور کمر میں بھی رد ہوتا ہے۔ریڑھ کی ہڈی میں جلن کا احساس جو صبح تین چار بجے بڑھ جاتا ہے، دو پہر کو آرام کرنے سے تکلیفوں میں کمی ہو جاتی ہے اور اگر پسینہ بھی آ جائے تو طبیعت بحال ہو جاتی ہے۔نکس وامیکا میں منہ میں چھوٹے چھوٹے زخم بن جاتے ہیں۔زبان کے کنارے زردی مائل یا سفید اور کٹے پھٹے، مسوڑھے بھی سوجے ہوئے اور سفید ہو جاتے ہیں جن سے خون بہتا ہے۔حلق میں گھٹن اور چیچن جو کانوں تک جاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔نکس وامیکا کی ایک دلچسپ علامت یہ ہے کہ جو شخص بدطینت اور کینہ پرور ہو،