ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 634
نیٹرم سلف 634 جکڑ لیتا ہے اور دمہ کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے۔بلغمی کھانسی کے ساتھ سانس لینے میں سخت دشواری پیش آتی ہے۔سفید رنگ کی لیس دار بلغم نکلتی ہے۔معمولی حرکت کرنے اور چلنے سے سانس پھولتا ہے۔نیٹرم سلف میں مریضوں کے جسم پر مہاسے نکلنے کا رجحان عام ملتا ہے۔تمام جسم پر مہاسے نکل آتے ہیں۔سر کا ایگزیما بھی اس کی نمایاں علامت ہے۔سرخ رنگ کے دانے بنتے ہیں۔اگر آنکھوں کو روشنی سے زود حسی ہوتو نیٹرم سلف اس میں بھی مفید ہے۔آنکھوں سے پانی بہتا ہے۔اگر ایک آنکھ سے پانی بہے اور اسی طرف گدی میں درد ہوتو یہ کالے موتیا کی ابتدائی نشانی ہے۔اس کے لئے کلکیر یا فاس اور جلسیمیم بہترین دوائیں ہیں۔لیکن اگر دونوں آنکھوں سے پانی بہتا ہو اور نظر کمزور ہو تو نیٹرم سلف بہتر دوا ہے۔اگر آنکھوں میں زردی پائی جائے اور انفیکشن اتنی زیادہ گہری ہو جائے کہ پیپ کا رنگ سبزی مائل ہو اور پلکیں آپس میں جڑنے لگیں تو بھی نیٹرم سلف موثر دوا ہوسکتی ہے۔کانوں میں شور کی آوازیں آئیں اور دباؤ محسوس ہوتو یہ کارگر ثابت ہو گی بشرطیکہ نیٹرم سلف کا مزاجی مریض ہو۔نیٹرم سلف میں دائیں طرف کی تکلیفیں بائیں کی نسبت زیادہ ہوتی ہیں۔حیض کے ایام سے پہلے یا بعد میں نکسیر پھوٹنے کا رجحان ہو تو اس میں بھی نیٹرم سلف کو آزمانا چاہئے۔وبائی انفلوئنزا میں بھی اسے استعمال کیا جاتا ہے۔اگر مسوڑھے دانتوں کو چھوڑنے لگیں، گلے کی تکلیفیں جن میں گاڑھا چھٹنے والا بلغم نکلے نیز تیز چلتے ہوئے دم گھٹنے کا اور سانس پھولنے کا احساس ہو تو بھی نیٹرم سلف اچھی دوا ثابت ہو سکتی ہے۔گلہڑ میں بھی مفید ہے۔گلے کے غدودوں سے اس کا گہرا تعلق ہے۔اگر غدود اندر کو بڑھے ہوئے اور متورم ہوں اور کھٹی اور سبز رنگ کی قے آتی ہو تو نیٹرم سلف بالمثل دوا ثابت ہوتی ہے۔نیٹرم سلف با قاعدگی سے دی جائے تو پتے کی پتھریوں کو بھی گھلا دیتی ہے۔اس مرض کی دوسری اہم دوالا ئیکو پوڈیم 200 ہے جس کے ساتھ چیلی ڈونیم 30 طاقت میں دن میں