ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 562 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 562

لیڈم 562 مریض ٹھنڈا ہوتا ہے اور بیرونی اور اندرونی طور پر سردی بہت محسوس کرتا ہے۔ٹھنڈک کے احساس کے باوجو د سردی سے آرام اور گرمی سے تکلیف ایک عجوبہ ہے۔لیڈم کی بیماریوں میں مریض کا چہرہ پیکیس کے مریض کی طرح سوجا ہوا اور متورم دکھائی دیتا ہے۔دل کے مریضوں میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے۔لیڈم کے مریض کے چہرے کی رنگت نیلگوں ہوتی ہے۔پاؤس اور پنڈلیوں میں بھی تعلیپھلی سی ورم ہوتی ہے اور رنگت میں نیلا ہٹ کی طرف مائل ہوتا ہے۔لیڈم کا مریض مضبوط، تنے ہوئے جسم کا مالک ہوتا ہے۔ٹخنے کے علاوہ گھٹنوں کے جوڑوں میں بیٹھ رہنے والی تکلیفوں میں بھی لیڈم کام آسکتی ہے بشرطیکہ ایسے گھٹے کو ٹھنڈی ٹکور سے آرام آئے۔اس میں پیشاب کی ایک علامت جسیمیم سے ملتی ہے۔کھلا اور بے رنگ پیشاب ہوتا ہے۔لیڈم کی مریض خواتین میں حیض بہت جلد ، بہت زیادہ اور گہرے سرخ رنگ کا ہوتا ہے۔اگر یہ علامتیں موجود ہوں تو لیڈم رحم کی اکثر بیماریوں میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔لیکن لیڈم کی اس علامت کو فراموش نہ کریں کہ ہر تکلیف کو ٹھنڈ پہنچانے سے آرام آتا ہے۔لیڈم کی ایک علامت پلسٹیلا سے ملتی ہے لیکن دونوں میں فرق کرنا مشکل نہیں۔پلسٹیلا میں اگر کسی عضو میں دیر تک در در ہے تو وہ عضو سکڑنے لگتا ہے اور کمزور ہو جاتا ہے۔لیڈم میں بھی اگر ایک ٹانگ میں تکلیف ہو تو وہ ٹانگ دوسری ٹانگ کی نسبت سکڑ کر کچھ چھوٹی ہو جاتی ہے۔دونوں میں امتیاز یہ ہے کہ پلسٹیلا کا مریض گرمی محسوس کرتا ہے اور سردی سے آرام جبکہ لیڈم کا مریض سردی محسوس کرتا ہے۔پھر بھی سردی ہی سے اسے آرام آتا ہے۔لیڈم آنکھوں کی تکلیفوں میں بھی مفید ہے۔اگر آنکھ میں چوٹ لگ جائے اور خون اتر آئے اور نقرس اور موتیا کی تکلیفیں بیک وقت شروع ہو جائیں تو لیڈم سے نمایاں افاقہ ہوگا۔لیڈم میں پیشانی اور گالوں پر سرخ رنگ کے چھوٹے چھوٹے دانے نکل آتے