ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 561
561 سا اوقات ٹخنے کی چوٹ صرف ٹخنے تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ پنڈلی کے تشیخ میں بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔چلنے یا زیادہ حرکت کرنے سے صبح شروع ہو جاتا ہے اور شدید بے چینی پیدا ہوتی ہے۔بعض دفعہ یہ شیخ گھٹنوں یا کولہوں میں منتقل ہو جاتا ہے اور کسی علاج سے آرام نہیں آتا۔اگر صحیح علاج کیا جائے تو تکلیف او پر سے نیچے کی طرف منتقل ہونے لگے گی اور جہاں پہلی چوٹ لگی تھی وہیں جا کر ٹھہر جائے گی۔اگر وہیں اس کا بالمثل علاج کیا جائے تو پھر تکلیف کہیں اور منتقل نہیں ہو گی۔لیڈم میں جو ورم پائے جاتے ہیں وہ اکثر پاؤں کے جوڑوں میں نقرسی مادہ کی وجہ سے ہوتے ہیں جس کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے۔اس کی پہچان بہت آسان ہے۔اگر سردی سے یا ٹھنڈے پانی سے آرام آئے اور گرمی سے مرض بڑھے تو پاؤں کے جوڑوں کا ایسا درد لیڈم سے جلد ٹھیک ہو جاتا ہے۔لیڈم سے متاثر ہونے والی ہر سوزش کو ٹھنڈی ٹکور سے آرام آتا ہے۔وہ درد جو جسم کے کسی ایسے عضو کی خالی جگہ پر محسوس ہو جسے بیماری کی وجہ سے کاٹ دیا گیا ہو، بہت تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ وہاں سے عضو تو کٹ چکا ہوتا ہے اور کوئی چیز موجود نہیں ہوتی لیکن تکلیف بدستور محسوس ہوتی ہے۔بسا اوقات ٹانگ تو کٹ جاتی ہے مگر اسی ٹانگ کے پاؤں کے انگوٹھے کی جگہ پر مریض ایسا درد محسوس کرتا ہے گویا واقعی وہاں کوئی انگوٹھا موجود ہو جو در دکر رہا ہو۔ایسے درد میں آرنیکا اور لیڈم بہت کام آتی ہیں۔اگر یہ پتہ چل جائے کہ وہ عضو کٹنے سے پہلے کیا بیماری تھی تو اسی بیماری کا علاج ہونا چاہئے کیونکہ اعصاب اور ذہنی ریشوں نے اس بیماری کو اپنی یادداشت میں محفوظ رکھا ہوا ہے اور یہ دراصل یادداشت کا درد ہے۔جب اس بیماری کا علاج کریں گے تو سارے اعصاب کو پیغام مل جائے گا کہ ایسے درد کے خلاف انہیں کیا رد عمل دکھانا چاہئے۔یہ یاد رکھیں کہ عموماً عضو کے کاٹنے کے بعد جو درد رہ جاتا ہے اس میں آرنیکا، لیڈم، ہائی پیر کیم ،سفائٹم وغیرہ مفید ہوسکتی ہیں مگر شرط یہی ہے کہ عضو کاٹنے سے پہلے والی بیماری ان دواؤں سے مماثلت رکھتی تھی۔لیڈم میں جوڑوں کے درد کو ٹھنڈک پہنچانے سے آرام آتا ہے باوجود اس کے کہ