ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 544 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 544

544 ہیں۔جلد سکڑ کر سیاہی مائل ہو جاتی ہے اور اس میں جھریاں پڑ جاتی ہیں لیکن لیکیس کی باقی علامتیں سیکیل سے بہت مختلف ہیں۔اس میں مریض کا جسم ٹھنڈا، اور مریض سخت سردی محسوس کرتا ہے جبکہ سیکیل کا مریض سخت گرمی محسوس کرتا ہے لیکن ماؤف جگہوں کو ٹھنڈی چیز لگانے سے آرام آتا ہے۔لیکیس میں ایک علامت رگوں کے گچھے کا نیلا ہوکر پھول جانا(Varicose Veins) ہے جن میں خون جم جاتا ہے اور ابھار اور گانٹھیں بن جاتی ہیں ان کے پھٹ جانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔یہ بہت ہی خطرناک اور تکلیف دہ بیماری ہے۔عموماً بعض عورتوں میں حمل کے دوران یا بعد میں ٹانگوں اور پاؤں پر یہ بیماری حملہ کرتی ہے۔بعض دفعہ یہ تکلیف اتنی شدید ہوتی ہے کہ چلنا پھرنا دوبھر ہو جاتا ہے۔ان پھولی ہوئی رگوں کے علاج میں اکیلی لیکلیس ناکام رہتی ہے۔ایسی صورت میں بہت سی ایسی علامات کا مشاہدہ کرنا چاہئے جو اس پہلو سے مریض کی تشخیص کریں کہ بحیثیت مریض وہ کس دوا کا تقاضا کرتا ہے اور اگر اس دوا میں رگیں پھولنے کی علامت بھی ہو تو اسے ہی اولیت دینی چاہئے لیکن اگر تشخیص نہ ہو سکے تو روز مرہ کی دوا کے طور پر آرنیکا او لیکلیس بار بار دینے سے کچھ نہ کچھ فرق پڑتا ہے لیکن سب سے اچھا روٹین کا علاج ایسکولس ہے۔آنکھوں کی بواسیر جس میں آنکھیں سرخ اور شدید متورم ہو جاتی ہیں، اس میں بھی ایسکولس بہت مفید دوا ہے۔عام بواسیر میں بھی بہت سے موہکے گچھوں کی صورت میں بن جاتے ہیں جو جامنی رنگ کے ہوتے ہیں اور ان میں شدید درد ہوتا ہے۔ایسکولس کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ لگتا ہے زخم جلد ہی گل سڑ جائیں گے لیکن کسی طرح پکنے ہی میں نہیں آتے اور پیپ بن کر پھٹتے نہیں۔پھٹے بغیر لمبے عرصہ تک زخموں کا اس بین بین حالت میں چلتے چلے جانا بہت تکلیف دہ مرض ہے۔ایسکولس کو ایسے مریضوں کی شفایابی میں شہرت حاصل ہے لیکن یہ دوا بھی اکیلی مکمل فائدہ نہیں دیتی بلکہ آرنیکا لیکیسس اور اسی طرح کی دوسری مددگار دواؤں کی ضرورت پڑتی ہے۔اس مرض کو آغا ز ہی میں پکڑنے