ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 543
543 کی طرح خون کا دباؤ ایک طرف زیادہ ہو جاتا ہے۔بیلاڈونا میں مختلف اعضاء میں خون کا دباؤ بڑھ سکتا ہے ضروری نہیں کہ سر کی طرف ہی دباؤ کار رجحان ہونگر لیکیس میں دوران خون زیادہ ہونے کا خاص مقام سر ہے۔خون کا اجتماع تیزی سے سر کی طرف ہو جاتا ہے اور پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔درد کے ساتھ باندھے جانے کا احساس ہوتا ہے جیسے کسی نے سر کے اوپر کپڑا کس دیا ہو۔لیکیس کی علامتیں رکھنے والے بعض مریض گرم پانی سے نہانے کے دوران بے ہوش بھی ہو جاتے ہیں۔لیکیس کی ایک اور نمایاں علامت یہ ہے کہ بدن پر جامنی یا سیاہی مائل داغ پڑ جاتے ہیں جو چہرے پر نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔وہ مریض جن پر دل کا حملہ ہوا ہو ان کے چہرے پر بھی ایسے ہی نشان پڑتے ہیں۔ایسے مریض جن کے جسم پر یہ نشان پڑنے کا رجحان ہوان کو وقتاً فوقتاً لیکیس دیتے رہنا چاہئے۔یہ خون میں Clot بنے اور نتیجتا دل کے حملے کی روک تھام کے لئے بہترین دوا ہے۔اس مقصد کے لئے اسے آرنیکا سے ملا کر دیا جائے تو اور بھی زیادہ کارآمد ہوتی ہے۔لیکیس متورم غدودوں میں بھی بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔اس کے زخموں سے آرسنگ اور سیکیل کی طرح سیاہ رنگ کا خون بہتا ہے جو گھاس پھوس کے ریشوں کی طرح جم جاتا ہے اور مقدار میں بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔کرئیوز وٹ اور فاسفورس کی طرح لیکیس میں بھی بہت زیادہ سیاہ خون بہنے کا رجحان ملتا ہے۔کرئیو زوٹ کی یہ خاص علامت ہے کہ معمولی دباؤ سے خون بہنے لگتا ہے۔اچھے بھلے نظر آنے والے مسوڑھوں کو انگلی سے دبا دیں تو خون نکل آئے گا یا کہیں کوئی معمولی سی بھی تکلیف ہو تو ذرا سا دبانے سے بھی خون رسنے لگے گا۔فاسفورس سیکیل کار میں ہمیشہ سرخ رنگ کا خون بہتا ہے اور یکدم شدت کے ساتھ جاری ہوتا ہے۔(Secale Cor) اور لیکیس میں خون کی رنگت سیاہی مائل ہوتی ہے اور ان کے زخموں کی شکل بھی ایک جیسی ہوتی ہے۔سیکیل کی طرح لیکیس کے زخموں میں بھی گینگرین بننے کا رجحان ہوتا ہے اور ان سے سیاہی مائل خون رستا ہے۔زخموں کے اردگرد کے کنارے گل کر متورم ہو جاتے