ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 542 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 542

542 سردی سے گرمی میں بدلتے ہوئے موسم میں بہت کارآمد ہے۔لیکیس میں خاص علامت یہ پائی جاتی ہے کہ سونے کے بعد تکلیف ضرور بڑھتی ہے۔سانپ کے اکثر کاٹے ہوئے مریضوں کا یہی حال ہوتا ہے مگر اس خاصیت میں سانپ کے سب زہروں میں لیکیس نمایاں ہے۔اگر چہ یہ اکثر ایسے مریضوں میں کام آتی ہے جن کی تکلیف سونے سے بڑھتی ہو۔لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان کو سانپ ہی نے کاٹا ہے۔مطلب یہ ہے کہ یہ ایک ملتی جلتی علامت ہے جس میں لیکیسس کارآمد ہوسکتی ہے۔اگر واقعتا لیکیسس سانپ نے ہی کا نا ہو اور مریض سو جائے تو وہ اٹھتا ہی نہیں کہ بعد ازاں کسی علاج کے قابل رہے۔ہر طبیب کو یہ امر پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگر واقعتا کسی سانپ کے کاٹے ہوئے مریض کے علاج کے لئے اسے بلالیا جائے تو وہ ایسے مریض کو جگانے کی ہر ممکن کوشش کرے خواہ اسے زور زور سے تھپڑ مارنے پڑیں۔اگر اس کی آنکھ کھل گئی اور کچھ دیر اس کو جگائے رکھا گیا تو پھر اس کے بچنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔لیکیس کے مریض کا مرض سوتے میں رات بھر بڑھتا رہتا ہے اور بعض مریضوں کو پریشان کن خوابیں بھی آتی ہیں اور صبح اٹھنے تک بیماری میں بہت اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔مریض سخت بے چین ہوتا ہے۔صبح سر میں لیکن والا درد ہوتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ہوتا مریض غم کا گہرا اثر محسوس کرتا ہے جو لیکیس کا خاص نشان ہے۔جلسیم میں بھی مریض صبح سر درد کے ساتھ اٹھتا ہے لیکن اس کی رات بے چینی سے نہیں گزرتی اور نہ ہی اسے ڈرواؤ نے خواب آتے ہیں۔اگر اٹھنے کے اوقات میں تبدیلی ہو یا چائے اور ناشتہ کا وقت بدل جائے تو جلیسیم کے مریض کو عموما سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔اوقات کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے ایسے سردرد میں جلسییم دوا ہے نہ سکے لیکیس۔لیکیسس کا مریض بہت ٹھنڈا ہوتا ہے خصوصاً اس کے پاؤں برف کی طرح ٹھنڈے ہوتے ہیں مگر گرم پانی سے تکلیف بڑھتی ہے خصوصاً سر کی علامتیں بہت بڑھ جاتی ہیں۔خون کا دباؤ شدید محسوس ہوتا ہے اور لگتا ہے کہ سر پھٹ جائے گا۔لیکیس میں بیلاڈونا