ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 541 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 541

541 اپنی کمین گاہوں میں پڑے سوئے رہتے ہیں۔اس تمام عرصہ میں ان کا زہر گاڑھا ہو ہو کر بہت خطرناک ہو چکا ہوتا ہے۔چنانچہ جب موسم سرما کے بعد موسم بہار میں یہ اپنی پناہ گاہوں اور بلوں سے باہر نکل آتے ہیں تو یہی وہ موسم ہے جس میں جب سانپ کاٹے تو اس کا زہر انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔سانپ کے زہر کی علامتوں میں وقت کی بہت پابندی پائی جاتی ہے۔سانپ جس موسم میں بھی کاٹے اگلے سال عین انہی دنوں میں اس کے بداثرات دوبارہ ابھر آتے ہیں اور علامات واپس آ جاتی ہیں۔بہار میں جن مریضوں کو سانپ کاٹتا ہے۔اگر وہ زندہ رہ جائیں تو ہر بہار میں ان کو ویسی ہی علامتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ سمجھتے ہیں کہ سوتے میں سانپ نے دوبارہ کاٹ لیا ہے۔چونکہ وہ جگہ جہاں سانپ نے کاٹا ہو اس کا زخم بھی ابھر آتا ہے اس لئے اس وہم کو مزید تقویت ملتی ہے۔دوسرے موسموں میں بھی سانپ کاٹے کی علامتیں کچھ نہ کچھ ابھرتی تو ہیں مگر اس شدت سے نہیں کہ انسان سمجھے کہ سانپ نے دوبارہ کاٹا ہے۔بہار میں اگر اچا نک سخت چھینکیں آنے لگیں تو یہ بھی لیکلیس کی ایک علامت ہے اور بعض مریضوں پر میں نے خود آزما کر دیکھا ہے کہ سالہا سال کی بہار کی الرجی یعنی دن رات بکثرت چھینکیں آنالیکیس ایک ہزار کی ایک ہی خوراک سے دور ہوگئی اور پھر دوبارہ کبھی تکلیف نہیں ہوئی۔غالبا سو میں سے دس مریض ضرور ایسے ہوں گے جن کو لیکیس ایک ہزار کی ایک ہی خوراک نے اتنا نمایاں فائدہ پہنچایا۔لیکیسس سے ٹھیک ہونے کے بعد اگر دوبارہ الرجی ہو تو کچھ عرصہ کے بعد مثلاً پندرہ دن یا مہینے کے وقفہ سے لیکیسس کو ہرایا جا سکتا ہے۔اگر لیکلیس ناکام ہو تو اس قسم کی الرجی میں نیٹرم میور اور سباڈیل بھی اچھا کام کرتی ہیں۔اس لئے مریضوں کی تشخیص احتیاط سے ہونی چاہئے۔ہر وہ مریض جو موسمی یا جغرافیائی لحاظ سے سردی سے گرمی کی طرف حرکت کر نے سے بیمار ہو جائے ، اس کی دوسری بیماریوں میں بھی لیکیس کو یا د رکھنا چاہئے۔البتہ ڈ لکا مارا ایک ایسی دوا ہے جس کا ہر موسم میں چھینکیں آنے سے تعلق ہے۔برائیو نیا بھی