ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 535 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 535

لیک ڈیف 535 ساتھ لمبا ہوتا جاتا ہے حالانکہ خوشی اور مزے کے دور میں لمحے سکڑ جایا کرتے ہیں اور وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے۔لیک ڈیف کے مریض کا دماغ ایک بات پر ٹھہرتا نہیں بلکہ ادھر ادھر بھٹکتا رہتا ہے۔اسے کسی بات پر یقین نہیں رہتا۔لیک ڈیف میں عورتوں کے سر درد سے تعلق میں ایک علامت بہت نمایاں ہے یعنی حیض سے پہلے اور بعد میں سر میں درد ہوتا ہے جو گدی، پیشانی اور کنپٹیوں تک پھیل جاتا ہے۔اگر حیض سے پہلے اور بعد میں زردی مائل بد بودار لیکوریا کا اخراج ہو تو یہ بھی لیک ڈیف کی پختہ علامت ہے۔یہ دونوں علامتیں مل جائیں تو علاج بہت سہل ہو جاتا ہے۔لیک ڈیف حمل کی متلی میں بھی بہت مفید دوا ہے۔ایسی مریضہ جس کا موٹاپے کی طرف میلان ہو اور جسم ٹھنڈا رہتا ہو۔اسے ذیابیطس ہو جائے تو لیک ڈیف بھی اس کی ایک امکانی دوا ہوگی۔اگر کوئی عورت ضرورت سے زیادہ موٹے بچے کو جنم دے جبکہ غذا و غیرہ نارمل ہو تو اس بات کا بھاری خطرہ موجود ہے کہ اسے ذیا بیطیس ہو جائے گی اور بچے میں بھی رجحان ہو گا۔اگر اس کا مزاج ٹھنڈا ہے اور جسم ٹھنڈا رہتا ہے تو لیک ڈیف اسے مکمل شفا دے سکتی ہے اس لئے فوراً اس کے ذریعہ علاج شروع کرنا چاہئے۔وہ عورتیں جو موٹی ہوں جسم ٹھنڈا ہو اور وہ دودھ ہضم نہ کر سکتی ہوں ان کے لئے یہ دوا نہایت مفید ہے۔اگر کسی عورت کو دودھ سے نفرت نہ بھی ہو مگر اسے دوران حمل دودھ ہضم نہ ہوتا ہو تو اس کی حمل کی متلی کو بھی خدا کے فضل سے یہ دوا ٹھیک کر دیتی ہے۔اس میں معدہ کی ان تمام بیماریوں کی علامتیں پائی جاتی ہیں جو دودھ ہضم نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔دودھ ہضم نہ ہونے کے نتیجہ میں یا مرغن غذاؤں کے استعمال سے نظام ہضم میں خرابی ہو جائے تو عموماً پلسٹیلا استعمال کی جاتی ہے مگر پلسٹیلا کا مزاج بہت گرم اور لیک ڈیف کا بہت ٹھنڈا ہوتا ہے اور یہی علامت ان دونوں کو ممتاز کرتی ہے۔ایک ڈایف میں روشنی سے شدید زود حسی پائی جاتی ہے۔آنکھوں میں چھوٹے چھوٹے کنکر چھنے کا احساس ہوتا ہے۔نظر دھندلا جاتی ہے۔