ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 525
لیک کینائینم 525 129 لیک کینا ئینم LACCANINUM لیک کینا ئینم کتیا کے دودھ سے تیار کی جانے والی دوا ہے۔اسی وجہ سے اکثر لوگ اس سے کراہت محسوس کرتے ہیں اور ہاتھ لگانے سے بھی اجتناب کرتے ہیں حالانکہ بعض دوائیں مثلاً سورائیم اور تعلیم وغیرہ کتیا کے دودھ سے بھی زیادہ مکروہ اور خطرناک مواد سے تیار کی جاتی ہیں۔کتیا کا دودھ اگر ہومیو پیتھک طاقت میں دیا جائے تو اصل سے بالکل برعکس ہو جاتا ہے اور ایک پاک صاف اور شفاف دوا بن جاتا ہے۔اس لئے اس کے استعمال سے گھبرانا نہیں چاہئے۔پہلے پہل ڈاکٹر رائزنگ (Dr۔Reisig) اور ڈاکٹر بیئرڈس (Dr۔Bayard's) نے اس دوا کی آزمائش کی اور کئی بیماریوں میں اسے بہت مفید پایا۔ان دونوں کی وفات کے بعد ڈاکٹر ڈائر (Dr۔Dyer) نے اس دوا کو از سر نو رواج دیا جس کے بعد ڈاکٹر کینٹ نے اسے بہت شہرت دی اور بہت وسیع پیمانہ پر اسے بعض بیماریوں کے علاج میں کامیابی سے استعمال کیا۔اس دوا کی سب سے بڑی علامت اعصابی بے چینی اور اعصابی انتشار ہے۔اعصاب اچھلنے لگتے ہیں۔کتوں میں یہ علامت پائی جاتی ہے کہ یہ فرضی چیزوں پر اچھلتے ہیں اور فضا میں بھونکتے ہیں۔اسی وجہ سے اکثر افسانہ نگاروں نے اپنی کہانیوں میں یہ لکھا ہے کہ کتوں کو جن بھوت اور روحیں نظر آتی ہیں۔ان ڈاکٹروں کو اس پس منظر کا علم نہیں تھا لیکن جب کتیا کے دودھ کی ہو میو پیتھک پوٹینسی بنائی گئی تو پتہ چلا کہ اس میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ اگر انسان پر اس کی آزمائش کی جائے تو اسے فضا میں فرضی چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں اور وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ چیزیں ابھر کر ایک وجود بن کر مجھے نقصان پہنچائیں گی۔یہ بات کتے کے مزاج میں داخل ہے اور اس کے دودھ کے ذریعہ