ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 518
کالی سلف 518 ماہرین ملتے ہیں۔چھوت کے ہر قسم کے بخاروں میں بھی کالی سلف اگر مزا جی ہو تو بہت مؤثر دوا ہے۔مثانے کا نزلہ مزمن ہو جاتا ہے۔پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی ہے۔زیادہ تر رات کے وقت تکلیف بڑھ جاتی ہے۔کالی سلف میں پریشان کن خواب بھی آتے ہیں۔نیند پر سکون نہیں آتی۔رات کو کھانے کے بعد گرم کمرہ میں ٹھہرنے سے چکر آتے ہیں۔سر میں کھچاؤ ہوتا ہے، بال گرتے ہیں اور سر میں خشکی ہوتی ہے۔ہونٹ کٹے پھٹے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر کینٹ کے نزدیک اگر ہونٹ پر مسہ بن جائے تو کالی سلف سے فائدہ ہوتا ہے۔اپی تھیلیوما (Epithelioma) میں بھی کالی سلف مفید ہے۔منہ میں چھالے بن جاتے ہیں۔زبان پر لیس دار زر در طوبت ہوتی ہے۔خشک کھانسی مگر کھڑ کھڑاہٹ کی آواز آتی ہے۔زبان خشک ہوتی ہے۔گلے کے غدود پھول جاتے ہیں اور نگلنے میں دقت ہوتی ہے۔انڈے، ڈبل روٹی، گوشت، گرم کھانے اور پینے سے نفرت ہو جاتی ہے۔کھانے پینے کے بعد معدے میں درد، جلن اور شیخ ، کھانسنے پر تے جس میں غیر ہضم شدہ غذا کے علاوہ بلغم ہوتی ہے۔کھانے کے بعد پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہے، تناؤ کا احساس بڑھ جاتا ہے اور ہوا باہر نہیں نکلتی۔پھلپھلی اور میں جو جگر کی خرابی سے پیدا ہوتی ہیں مختلف اعضاء یا چہرے پر دکھائی دیتی ہیں۔رات کو پیٹ میں درد اور دکھن کا احساس ہوتا ہے۔سخت قبض اسہال سے ادلتی بدلتی رہتی ہے۔بواسیر کے مسے بیرونی سطح کے علاوہ اندر بھی ہوتے ہیں جن میں خون بہنے کا رجحان ہوتا ہے۔کالی سلف میں اجابت کے بعد پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں۔مرک کار میں بھی یہ علامت ہے۔اس میں اجابت کے دوران درد شروع ہوتا ہے جو بعد میں بھی جاری رہتا ہے۔اسہال پتلے سیاہی مائل، چھیلنے والے اور بد بودار ہوتے ہیں۔کالی سلف میں شدید خارش ہوتی ہے۔گردوں کی اندرونی جھلیوں میں سوزش اور ہلکے یا شدید چبھن والے درد پائے جاتے ہیں۔بعض دفعہ پیشاب میں البیومن بھی آتی ہے۔پیشاب گہرے رنگ کا ، مقدار میں زیادہ اور جلن والا ہوتا ہے۔کبھی یہ تھوڑا تھوڑا آتا ہے مگر آتا چلا جاتا