ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 517
کالی سلف 517 ہے، جسم کے اعصاب پھیل جاتے ہیں، دل میں طاقت نہیں رہتی اور سانس جلد چڑھتا ہے۔کالی سلف اگر بالمثل ہو تو بہت فائدہ ہوگا۔ایسی مریضہ کی ٹانگیں بھاری ہو جاتی ہیں۔کالی سلف میں لمس سے تکلیف اور مضبوط دباؤ سے آرام ملتا ہے۔کالی سلف میں سردرد حرکت سے بڑھ جاتا ہے۔کھلی ہوا میں آرام محسوس ہوتا ہے۔یہ درد آنکھوں، پیشانی اور سر کی دونوں اطراف میں پھیل جاتا ہے۔سر پر تنگی اور گھٹن کا احساس ہوتا ہے۔آنکھوں کے پیوٹے آپس میں چپک جاتے ہیں، آنکھوں سے زردی مائل رطوبت نکلتی ہے، بہت خارش ہوتی ہے اور پانی نکلتا ہے۔پیوٹوں پر دانے نکل آتے ہیں۔آنکھ کا بصری پردہ (کورنیا) دھندلا جاتا ہے۔کالی ملف اگر مزاجی دوا ہو تو آنکھ کی ان سب تکلیفوں کا ازالہ کرسکتی ہے۔کان سے زرد رنگ کی بدبودار رطوبت نکلتی ہے۔کان کے درمیانی حصہ میں خشکی پائی جاتی ہے۔پہلے کان سے پانی کا اخراج ہوتا ہے پھر کچھ گاڑھا ہو کر وہ اخراج زردرنگ کا ہو جاتا ہے۔جب بیماری مزمن شکل اختیار کرلے تو مزید متعفن ہو کر سبز رنگ کا ہو جاتا ہے اور کان کی جھلیوں سے خون بہنے لگتا ہے۔یہ پیچیدگیاں آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں اور کئی سالوں کے بعد کانوں کے پردے موٹے ہو جاتے ہیں، سخت بدبو آتی ہے اور بہرے پن کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں۔اگر کالی سلف مزاجی دوا ہو تو شروع ہی میں دینے سے مذکورہ بالاکوئی پیچیدگی پیدا نہیں ہوگی۔کالی سلف میں کانوں میں اور کانوں کے پیچھے خارش ہوتی ہے اور قسم قسم کا شور سنائی دیتا ہے۔کالی سلف کے ایگزیما میں دانے اور چھالے نکل آتے ہیں ، جلن کا بہت احساس ہوتا ہے، جلد کا رنگ بدل کر مینڈک کی کھال کی طرح زردی مائل بے جان یا بے رنگ ہو جاتا ہے۔عموماً جگر اور تلی کی خرابیوں کے نتیجہ میں ایسا ہوتا ہے۔خون کی کمی اورسل کی بیماری بھی چہرہ پر بے رونقی اور زردی پیدا کر دیتی ہے۔ایسی صورت میں چہرہ دیکھ کر بیماری کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔چہرہ اور آنکھوں کی علامتوں سے امراض کی تشخیص نے ایک با قاعدہ فن کی صورت اختیار کر لی ہے اور جرمنی میں اس کے کئی پیشہ ور