ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 516 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 516

کالی سلف 516 سے یہ معلوم نہیں کیا گیا۔اس لئے بہت سے ہومیو پیتھک ڈاکٹر اس دوا کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔اگر پر دونگ ہو جاتی تو قاعدہ قانون کے مطابق یہ علم ہوسکتا تھا کہ کس قسم کی مرگی میں یہ ضرور کام آئے گی۔پس موجودہ صورت حال میں تو یہی ہوسکتا ہے کہ اگر دوسری بالمثل دواؤں سے مرگی قابو میں نہ آئے تو اس دوا کی آزمائش بھی ضرور کی جائے۔کالی سلف جلدی امراض کے علاوہ اندرونی جھلیوں کے علاج میں بھی مفید ہے۔کالی سلف کے متعلق یہ بیان کیا جاتا ہے کہ لیوپس (Lupus) کے بعض مریض اس سے بکلی شفا پاگئے۔کہتے ہیں اگر ملیریا بخار بگڑ جائے تو کالی سلف اگر مزاجی دوا ہوتو بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔نزلاتی تکلیفوں میں کالی سلف استعمال کی جائے خصوصاً مزمن نزلہ میں جبکہ نزلہ میں نزلاتی مواد سبز رنگ کا ہو چکا ہو۔کالی سلف کو بائیونی کی پلسٹیلا کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی بہت سی علامتیں پلسٹیلا سے مشابہ ہیں۔مثلاً گرمی سے تکلیفوں کا بڑھنا، ٹھنڈ اور کھلی ہوا سے فائدہ پہنچنا۔یہ بات کالی سلف کی مزاجی پہچان میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔پلسٹیلا کی تفصیلی علامتیں اسے کالی سلف سے الگ دکھا دیتی ہیں لہذا جس مریض میں پلسٹیلا سے مشابہت پائی جائے لیکن اس میں اس کی عمومی علامتیں نہ ہوں تو یہی بات کالی سلف کی نشاندہی کے لئے کافی ہے۔پھر عموماً ان سب بیماریوں میں یہ مفید ثابت ہو گی جن کا ذکر اس باب میں ملتا ہے۔کالی سلف میں عضلات کے ڈھیلے ہو کر لٹکنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ایسے مریض جن کے جگر میں خرابی ہو اور دل کے عضلات پھیل کر بے جان ہونے لگیں، کالی سلف ان کے عضلات کے ڈھیلے پن میں کام آئے گی۔لیکن یہ چھوٹی طاقت میں لمبے عرصہ تک کھلانی پڑتی ہے جس کے نتیجہ میں چند مہینوں کے اندر اندر اچھی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔مریض میں جان آنے لگتی ہے اور بہت حد تک جگر اور جسم کی چربی پگھل جاتی ہے۔خواتین میں عموماً بچوں کی پیدائش کے بعد یہ الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔جگر پر چربی چڑھنے لگتی