ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 16
ایکٹیا 16 اختیار کر لیتے ہیں۔نازک مزاج عورتوں کو صدمہ کی وجہ سے ماہانہ نظام میں بے قاعدگی، جوڑوں کا درد اور دوسرے جسمانی عوارض لاحق ہو جاتے ہیں۔اگر ذہن پر صدمہ کا اثر ہو تو خوف اور وہم میں مبتلا ہو جاتی ہیں، دوا بھی استعمال نہیں کرتیں کہ اس میں زہر وغیرہ نہ ملا دیا ہو۔اگر دیگر علامتوں کے ساتھ وہم بھی پایا جائے تو ایکٹیاریسی موسا کی ایک دو خورا کیس ہی سب وہموں کو دور کر دیتی ہیں اور مریضہ صحت یاب ہونے لگتی ہے۔ایکٹیا میں دو متقابل دواؤں کی علامتیں پائی جاتی ہیں۔بعض پہلوؤں سے یہ برائیونیا اور بعض پہلوؤں سے رسٹاکس سے مشابہ ہے۔برائیونیا میں حرکت سے اور رسٹاکس میں آرام سے تکلیف بڑھتی ہے۔ایکٹیا میں جس پہلو پر لیٹیں اسی پہلو میں تکلیف بڑھے گی اور اعصاب پھڑ پھڑانے لگیں گے۔سردرد عموماً آنکھ کے ڈیلوں اور سر کے پیچھے ہوتا ہے جسے دبانے سے آرام آتا ہے لیکن حرکت سے بڑھ جاتا ہے۔چکر آتے ہیں، سر میں بھاری پن نمایاں ہوتا ہے ،نظر دھندلا جاتی ہے۔پڑھائی، فکر اور مثانے کی تکلیفوں سے سر درد شروع ہو جاتا ہے۔ایکٹیار یہی موسا میں ابراٹینم کی طرح قبض اور اسہال آپس میں ادلتے بدلتے رہتے ہیں، معدہ میں شدید درد ہوتا ہے جس میں آگے کی طرف جھکنے سے آرام آتا ہے۔ریڑھ کی ہڈی اور اعضائے تناسل پر بوجہ کی وجہ سے متلی اور قے کا رجحان۔نوجوان بچیوں کو پہلے عمل میں شدید متلی ہوتی ہے اور کسی دوائی سے بھی آرام نہیں آتا۔اس تکلیف میں گہرے غور و فکر ، مزاج شناسی اور علامات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر دوا تجویز کرنی چاہئے۔اگر مریضہ میں ایکٹیار یہی موسا کی دیگر علاماتیں موجود ہوں تو متلی کے لئے اسی سے فائدہ ہوگا۔بعض کمزور اعصاب کی عورتوں میں وضع حمل کے وقت جب دردیں اٹھتی ہیں تو جنین کو باہر دھکیلنے کی بجائے دائیں ، بائیں پھیل جاتی ہیں۔کولہوں میں تشخی علامات پیدا ہوتی ہیں جو وضع حمل کی تکلیفوں میں ایکٹیا ریسی موسا کی خاص پہچان بن جاتی ہیں۔اگر