ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 466
اگنیشیا 466 اگنیشیا کے مریض کا جسم ٹھنڈا ہوتا ہے۔اس کے باوجود ٹھنڈا پانی پینے کی خواہش رکھتا ہے۔عام کھانے سے بے رغبتی ہو جاتی ہے۔آرام سے سکون محسوس کرتا ہے۔اگنیشیا میں نظر کی ہر قسم کی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔آنکھوں کے سامنے دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ٹیڑھی میڑھی لکیریں آنکھوں کے سامنے جھلملاتی ہیں۔نظر کمزور ہو جاتی ہے اور آنکھیں دکھتی ہیں۔چہرے کا اعصابی درد بھی اگنیشیا کے دائرہ اثر میں ہے۔عضلات پھڑ کتے ہیں، منہ کا ذائقہ ترش ہوتا ہے۔غیر متوقع طور پر بے وقت پیاس لگتی ہے اور جب پیاس لگنی چاہئے اس وقت نہیں لگتی۔اگنیشیا کے مریض سے کبھی بحث نہیں کرنی چاہئے کیونکہ وہ ثبت دلیل کے مقابل پر اوٹ پٹانگ بات کرے گا اور بحث کو بڑھاتا جائے گا۔بہتر یہی ہے کہ اس سے کنارہ کشی کر لی جائے۔اگنیشیا کے مریض کی نیند گہری نہیں ہوتی۔سوتے ہی اعضاء میں جھٹکے لگتے ہیں یا غم اور فکر کے نتیجہ میں نیند اڑ جاتی ہے۔بسا اوقات غم اور صدمہ کے نتیجہ میں ایسی مریضہ کا حیض بند ہو جاتا ہے یا نظام میں ستی پیدا ہو جاتی ہے۔پیٹ اور معدہ میں شیخ اور درد ہوتا ہے۔ہاتھ پاؤں میں جھٹکے لگتے ہیں۔پاؤں اور ٹخنوں میں درد ہوتا ہے۔اگنیشیا کی تکلیفیں صبح کے وقت اور کھلی ہوا میں بڑھ جاتی ہیں، کھانا کھاتے ہوئے ، آرام کرنے سے یا کروٹ بدلنے سے تکلیفوں میں کمی محسوس ہوتی ہے۔مددگار دوائیں نیٹرم میور ،سلیشیا دافع اثر دوائیں: کیمومیلا، کاکس طاقت: 30 سے 200 تک