ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 411

گریفائٹس 411 ہم مزاجی دوائیں جو ایک دوسرے سے مطابقت رکھتی ہوں باری باری استعمال کروائیں تو یہ ایک دوسرے کے اثر کوکم نہیں کرتیں بلکہ ایک دوسرے کی مددگار بن جاتی ہیں۔گریفائٹس کا مریض کھلی ہوا کو پسند نہیں کرتا لیکن کھڑکیاں کھلی رکھنا چاہتا ہے۔جسم ٹھنڈا ہونے کے باوجود چہرے پر ٹھنڈی ہوا کے جھونکے برے محسوس نہیں ہوتے جبکہ اکثر بیماروں کے لئے ہوا کا جھونکا نا قابل برداشت ہوتا ہے۔گریفائٹس کا مریض ٹھنڈک کو پسند نہیں کرتا۔اسے گرمی فائدہ پہنچاتی ہے لیکن جسم کی اندرونی گرمی جو ورزش کرنے یا دوڑنے اور چلنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اس کی تکلیف کو بڑھا دیتی ہے۔گریفائٹس میں فالج کی علامتیں بھی پائی جاتی ہیں۔کاسٹیکم کی طرح اس کا فالج بعض اعضاء کو متاثر کرتا ہے خصوصا نچلے دھڑ پر فالج کا حملہ ہوتا ہے۔بالخصوص ٹانگوں کے فالج میں گریفائٹس بعض اور دواؤں کی طرح بہت مؤثر ہے۔یہ مرگی کے مرض میں بھی بہت مفید ہے۔مرگی عموماً کسی گہری اندرونی بیماری کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اس لئے اس کا علاج بھی مزاج سے تش ہم آہنگ کسی گہری دوا سے ہی کرنا چاہئیے۔گریفائٹس بھی ان دواؤں میں سے ایک ہے۔گریفائٹس چونکہ خالص کار بن ہے اس لئے کار بوو پیج سے بھی اس کی مماثلت ہے۔ہر کاربن میں مبیع کی علامت پائی جاتی ہے۔کار بود تیج پنڈلی کے نہایت تکلیف دہ صبح کے لئے بہترین دوا ہے۔اگر یہ شینج بڑھ کر مرگی کے دوروں میں تبدیل ہوجائیں تو گریفائٹس کام کرتی ہے لیکن اس کی دیگر مزاجی علامات کی موجودگی ضروری ہے کیونکہ مرگی میں دوا اس وقت کام کرتی ہے جب مریض کے مزاج سے مشابہ ہو۔گریفائٹس میں یہ خوبی ہے کہ اگر یہ کام کرے تو بہت گہرے نتائج پیدا کرتی ہے۔عین ممکن ہے کہ بیماری جڑ سے اکھڑ جائے یا اتنی معمولی باقی رہ جائے تو شاذ کے طور پر ہی کبھی دورہ پڑے۔گریفائٹس پہنی پژمردگی کی بھی ایک اعلیٰ دوا ہے لیکن صرف اسی علامت سے مرض کی پہچان بہت مشکل ہے کیونکہ ذہنی پژمردگی اتنی عام چیز ہے کہ ہر کس و ناکس اس میں مبتلا ہوتا رہتا ہے۔گریفائٹس کا مریض ہر وقت متفکر نظر آتا ہے۔مملین اور مایوس ہوتا ہے۔