ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 385
فیرم فاس 385 انیمیا (Anaemia) کی نشانی ہے۔خون کی کمی ہو تو ایک دم اٹھنے سے اور سیڑھیاں چڑھنے سے خون نیچے کی طرف آتا ہے اور سر کو پوری طرح خون نہیں پہنچتا۔اگر سر میں درد ہو تو اس صورت میں اس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔آنکھوں کے اوپر ، گدی میں ، کنپٹیوں پر اور آدھے سر میں پھاڑنے والے درد ہوتے ہیں، نظر بھی عارضی طور پر ) غائب ہو جاتی ہے۔پرخون دواؤں کی فہرست میں جلسیمیم میں بھی یہ علامت ملتی ہے کہ سر درد کے دورے کے ساتھ اچانک نظر غائب ہو جاتی ہے۔خون کا دباؤ زیادہ ہو جائے تو بیلا ڈونا میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے مگر فیرم فاس میں خون کی کمی کی وجہ سے اور سر میں خون نہ پہنچنے کے نتیجہ میں وہی اثر ظاہر ہوتا ہے جو پر خون دواؤں میں خون کا دباؤ بڑھ جانے سے ہوتا ہے اور نظر غائب ہو جاتی ہے۔فیرم فاس میں کان کی نالیوں کا نزلہ ہوتا ہے اور نزلاتی اخراجات میں خون کی آمیزش بھی ملتی ہے کیونکہ اس دوا میں جریان خون کا رجحان ہوتا ہے۔بچوں میں عموماً نکسیر کا عارضہ ملتا ہے۔فیرم فاس کے مریضوں کے منہ کی جھلیوں اور مسوڑوں سے اگر خون بہے تو اس کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور یہی بات عملی فولیم میں بھی پائی جاتی ہے۔گلے کے غدود پھول جاتے ہیں،خراش، خون بہنا، جلن، سوزش اور نگلنے میں دقت فیرم فاس کی علامتیں ہیں، یہ علامتیں بہت سی دواؤں میں نمایاں ہیں۔محض ان کی وجہ سے فیرم فاس کو پہچاننا مشکل ہے۔مریض پر عمومی نظر ڈال کر اندازہ ہو سکتا ہے کہ فیرم فاس کا مریض ہے یا نہیں۔اس میں خون کی کمی کا نشان اس کی پہچان میں مدد دے سکتا ہے مگر پر خون لوگوں میں بھی فیرم فاس کئی عوارض میں کام آتی ہے۔فیرم فاس حمل کے دوران عورتوں کو ٹانک کے طور پر استعمال کروانی چاہئے۔اس غرض کے لئے فیرم فاس، کلکیر یا فاس اور کالی فاس کا مرکب بہت مفید ہے۔شروع کے مہینوں میں دینے سے حمل ضائع ہونے کا رجحان رک جاتا ہے اور آخری دو تین مہینوں میں بچہ کی نشو ونما کے لئے بہت مفید ہے۔اسے مسلسل استعمال نہیں کرنا چاہئے ، کچھ