ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 373 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 373

یو پیٹوریم 373 دورہ شروع ہی نہیں ہوگا یا پہلے دورے سے کم شدید ہوگا۔دو تین دن ایسا ہوتا رہے گا اور ہر آنے والا بخار پہلے سے کم ہوگا یہاں تک کہ مریض کو مکمل شفا ہو جائے۔بائی کے دردوں (Rheumatism) میں بھی یو پٹیوریم کامیابی سے استعمال ہوتی ہے۔یو پٹیوریم کے مریضوں کے جوڑوں پر گانٹھیں ابھر آتی ہیں اور سب اعصاب میں بھی درد ہوتا ہے۔نقرس Gout) کا درد زیادہ تر پاؤں کے انگوٹھے میں ملتا ہے۔بائی کے مریضوں کو اکثر سر در درہتا ہے۔متلی ہوتی ہے اور صبح کے وقت چکر آتے ہیں جبکہ شام کو کم ہو جاتے ہیں۔یو پٹیوریم کے مریض کی آنکھ کے ڈیلوں میں بھی درد ہوتا ہے۔آنکھوں کے درد میں اور برائیو نیا، یو ٹیوریم کی مددگار دوائیں ہیں۔اسہال آئیں تو بہت کھلے، سبزی مائل اور پانی کی طرح ہوتے ہیں، مروڑ بھی اٹھتے ہیں۔بعض دفعہ تھوڑے تھوڑے اسہال آنے کے بعد یکدم بہت کھل کر آتے ہیں جس سے بہت کمزوری واقع ہو جاتی ہے اور اس کے معابعد کچھ قبض ہو جاتی ہے جو کئی دن تک مسلسل چلتی ہے۔یو پیوریم میں کھانسی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔سینے میں درد ہوتا ہے۔سارے جسم پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔سردی سے زود حسی پائی جاتی ہے چونکہ یہ نزلہ کی دوا ہے اس لئے پھیپھڑوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔یو پیوریم کے مریضوں کی طبیعت میں اداسی پائی جاتی ہے۔یو پٹیوریم کے مریض کے جسم پر ورم بھی ہو جاتی ہے۔اگر ایسے ورم انفلوئنز ایا ملیریا کے دوران پائے جائیں تو ذہن یو پٹیوریم کی طرف منتقل ہونا چاہئے۔یو ٹیوریم کی امراض اکیس دن کے بعد دوبارہ اپنا زور دکھاتی ہیں۔بات چیت میں مصروف رہنے سے یو ٹیوریم کے مریضوں کو افاقہ محسوس ہوتا ہے۔یو پٹیوریم معدہ، جگر اور ہوا کی نالیوں کی اندرونی جھلیوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔یہ عموماً مرطوب علاقوں میں پیدا ہونے والی بیماریوں میں مفید ہے مگر سخت خشک موسم میں بھی اس کا عارضہ ملتا ہے جیسے ڈینگو بخار۔طاقت: 30 سے 200 تک