ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 335
کروٹیلس 335 سوج جاتے ہیں، پاؤں کی انگلیوں میں اینٹھن اور درد ہوتا ہے۔کھلی ہوا میں سر اور معدے کی تکلیفیں آرام پاتی ہیں جبکہ کھانسی بڑھ جاتی ہے۔تمام جسم میں لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔جلد بہت حساس ہو جاتی ہے اور اس میں زردی نمایاں ہوتی ہے اور پھوڑے نکلنے کا رجحان ہوتا ہے۔چہرہ بے رنگ زردی مائل ہوتا ہے۔ایک خاص علامت یہ ہے کہ اگر کسی لڑکی کو حیض کا خون جاری نہ ہو اور منہ دانوں سے بھر جائے تو کروٹیلس اس کی خاص دوا ہے۔یہ حیض کو دوبارہ جاری کر کے چہرے کی طرف خون کے دباؤ کو کم کر دیتی ہے۔کر ٹیلس صرف عارضی اثر رکھنے والی دوا نہیں ہے بلکہ مزمن بیماریوں کے اثرات میں بھی مفید ہے۔اگر تمام اعصابی نظام بگڑنے کے نتیجہ میں جسم کمزور ہو جائے، ہاتھ پاؤں کانپنے لگیں، نسبتا بڑی عمر کے مریضوں کو رعشہ ہو جائے تو اس میں کر پیلس مفید ہے بلکہ لازم دوا بن جاتی ہے۔کروٹیلس میں دائیں طرف سونے سے تکلیفیں بڑھتی ہیں۔معدے اور پیٹ میں شدید ٹھنڈ کا احساس ہوتا ہے جیسے کسی نے برف رکھ دی ہو۔یہ احساس انتڑیوں یا معدے میں کینسر کے آغاز کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔اگر وقت پر کروٹیلس دی جائے تو شفا ہوسکتی ہے۔ایسی علامتوں پر نظر رکھی جائے تو مزید پیچیدگیاں پیدا نہیں ہوں گی۔کرو پیلس پیٹ کی ہوا اور معدے کے السر میں بھی مفید ہے۔اگر رحم میں کینسر ہو اور شدید خون بہہ رہا ہو تو کر ڈٹیکس سے مکمل شفا ممکن ہے۔ایسی مریضہ کے چہرے پر زردی چھا جاتی ہے اور وہ یرقان کی مریضہ معلوم ہوتی ہے۔یہ خاص علامت ہے جس سے کر ویلس کی پہچان ممکن ہے۔دل کی کمزوری بھی کرو ٹیلس کی خاص علامت ہے۔یہ بات سانپ کے تقریباً سب زہروں میں پائی جاتی ہے۔خصوصاً حیض کے دنوں میں دل کا نپتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ہاتھ بھی کانپتے ہیں اور سوج جاتے ہیں۔ٹانگیں سن ہو جاتی ہیں اور بائیں جانب فالج ہونے کا احتمال ہوتا ہے۔حیض دیر تک جاری رہتا ہے۔شدید درد جو ٹانگوں تک پھیلتا ہے۔معدہ میں بھی نقاہت کا احساس ہوتا ہے۔بچے کی پیدائش کے بعد