ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 333 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 333

کروٹیلس 333 بے ترتیب اور الجھی ہوئی ہوتی ہیں۔کر ڈٹیلس کا مریض بھی بہت تیزی سے بولتا ہے اور کہانیاں بناتا چلا جاتا ہے لیکن ذہنی لحاظ سے زیادہ پر جوش نہیں ہوتا۔اس میں سستی اور غنودگی نمایاں ہوتی ہے،موت کا خوف اور رونے کی طرف رجحان نیز ٹھنڈے پسینے آتے ہیں۔سردرد اور چکر ا دلتے بدلتے رہتے ہیں۔اگر آرام کرے تو سر میں درد ہونے لگتا ہے اور حرکت سے چکر آتے ہیں۔سونے سے تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔خصوصیت سے سر درد میں بہت شدت پیدا ہو جاتی ہے اور بعض اوقات سونے سے پہلے درد نہ بھی ہو تو بھی سونے کے کچھ دیر بعد درد کی وجہ سے مریض کی آنکھ کھل جاتی ہے۔سراٹھانے سے تکلیف میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے، درد کی لہریں سر کے پچھلے حصہ سے آگے کی طرف آتی ہیں اور بہت کمزوری ہوتی ہے۔جب بھی کسی خاص مرض کا حملہ ہو تو جسم پر موجود زخموں سے کالے رنگ کا بد بودارخون بہنے لگتا ہے۔خاص طور پر بہار کے موسم میں یہ کیفیت پیدا ہوتو کر ٹیلس ہی دوا ہو گی۔شوگر کی وجہ سے گردن اور کمر وغیرہ پر کاربنکل نکلتے ہیں۔اگر وہ تیزی سے پھیل کر جڑوں والے پھوڑوں کی شکل اختیار کر لیں اور ارد گر دورم ہو جائے تو کر ڈٹیلس مفید ہے۔ایسے کاربنکل میں آرسینک اور اینتھر اسینم (Anthracinum) بھی مؤثر ہیں۔اگر عورتوں کو حمل کے دوران ٹائیفائیڈ ہو جائے جس کی وجہ سے حمل ضائع ہو جائے تو یہ دوا بعد میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں میں مفید ہوتی ہے۔کروٹیلس میں بعض اوقات یا تو بہت زیادہ نیند آتی ہے یا پھر نیند بالکل اڑ جاتی ہے اور یہ دونوں کیفیات آپس میں ادلتی بدلتی رہتی ہیں۔سخت غنودگی کی حالت میں اٹھا نہیں جاتا لیکن جب آنکھ کھل جائے تو پھر نیند نہیں آتی۔اس دوا میں اور دیگر سانپوں کے زہروں میں ایک بات مشترک ہے کہ مریض مختلف قسم کے شکوک وشبہات میں مبتلا رہتا ہے، کسی پر بھروسہ نہیں کرتا اور یہ سجھتا ہے کہ کوئی اسے زہر دے دے گا۔مریض کو الکحل اور شراب پینے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔عادی شرابیوں کی عادت چھڑوانے کے لئے سلیفورک ایسڈ بہترین دوا ہے۔ایک قطرہ