ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page xxxvi of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page xxxvi

دیباچہ 24 دواؤں کے زیر اثر ٹھیک ہو سکتی ہیں اور سب دواؤں کے مزاج پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔غرضیکہ ہر دوا کے ذکر میں اس کثرت سے متفرق امراض اور دیگر دواؤں کا ذکر کرتا رہا کہ ان ابتدائی طالبعلموں کو گویا گھوٹ گھوٹ کر ہومیو پیتھی پلانی پڑی۔لیکچرز کے طور پر تو یہ طریق بہت ہی مفید اور کامیاب رہا۔لیکن ایک مستقل کتاب کے اندران سب امور کا دہرا نا مناسب نہیں تھا۔اس کتاب کے پہلے ایڈیشن کی لفظی مرمت تو میں نے کر دی تھی۔ہاں ! اس میں بھی کتابت کی بہت سی غلطیاں رہ گئی تھیں۔مگر اس پہلو سے میں سابقہ ایڈیشن کا مطالعہ نہیں کر سکا تھا کہ کتاب کے پڑھنے والے رمذکورہ بالا تکرار کا کیا اثر پڑے گا۔جب میں نے اس پہلو سے کتاب کا مطالعہ کیا تو اسے سخت اعصاب شکن پایا۔ایک بالکل نیا قاری کتاب کے مصنف کے متعلق یہی رائے قائم کر سکتا ہے کہ مصنف کی یادداشت سخت کمزور ہے اور وہ ان باتوں کو مسلسل ہر باب میں دہراتا چلا جا رہا ہے جو پہلے باب میں بیان ہو چکی تھیں۔چونکہ اب میرا ارادہ یہ ہے کہ اس کتاب کو انگریزی اور دنیا کی دیگر اہم زبانوں میں ترجمہ کر کے بکثرت شائع کیا جائے اس لئے یہ نیا ایڈیشن بہت احتیاط سے تیار کیا جا رہا ہے اور حتی المقدور کوشش کی گئی ہے کہ مضمون کی تکرار صرف اتنی رکھی جائے جتنی طبیعت پر گراں نہیں گزرتی بلکہ یادداشت کو تازہ کر دیتی ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی کوشش کی گئی ہے کہ ملتی جلتی دواؤں کا صرف ان امراض کے تعلق میں ذکر کر دیا جائے جن سے ان کا تعلق ہے۔صرف ان کے نام درج ہیں اور بعض جگہ یہ لکھا ہوا ہے کہ جس نے تفصیل دیکھنی ہو وہ ان کے باب میں مطالعہ کر لے۔اس طرح کتاب کا حجم تو بہت کم ہو گیا ہے لیکن افادیت کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے۔اس ایڈیشن کا انڈیکس بھی از سر نو تیار کرنا پڑا ہے اور اس میں دوسری جلد کی دواؤں کو بھی حروف تہجی کے لحاظ سے ترتیب دے کر بیچ میں شامل کر لیا گیا ہے۔اس بنا پر بھی نیا انڈیکس تیار ہونا ضروری تھا۔بہت خوشکن بات یہ ہے کہ جلد دوم کی دواؤں کو جلد اول میں شامل کرنے کے باوجود کتاب کا حجم بڑھنے