ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 294
سیکوٹا وروسا 294 نہیں ہوتی بلکہ دانوں پر لیموں کے رنگ کا سخت کھرنڈ بن جاتا ہے۔مچھلی کا کانٹا گلے میں پھنس جائے تو سلیشیا فورا اثر کرتی ہے لیکن اگر بعد میں گلے میں تشنج اور بے چینی باقی رہیں تو سیکوٹا سے آرام آئے گا۔سیکوٹا وروسا میں تمام اعضاء میں لرزہ سا طاری ہو جاتا ہے۔بازوؤں اور ٹانگوں میں کمزوری کا احساس، اچانک جھٹکوں کے بعد شدید کمزوری، ٹانگیں لڑکھڑاتی ہیں اور جسم کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتیں، چکر آتے ہیں، سوتے ہوئے سر پر پسینہ آتا ہے۔سیکوٹا میں آنکھوں کی ایک علامت یہ ہے کہ پڑھتے ہوئے حروف نظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔چیزیں نزدیک آتی ہوئی اور دور ہٹتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔قوت سامعہ بھی کمزور ہوجاتی ہے۔نگلنے میں سخت دقت ہوتی ہے۔گلا خشک، غذا کی نالی میں تشنج، سخت پیاس، جلن، ہچکی، ریاح، پیٹ میں اپھارہ بھی سیکورٹاوروسا کی علامات ہیں۔صبح کے وقت اسہال اور پیشاب کی نہ ختم ہونے والی خواہش بھی موجود ہوتی ہے۔سینہ میں تنگی اور گھٹن کا احساس، سانس لینے میں دقت ، آلات تنفس کے عضلات میں تشنج ، سینے میں گرمی کا احساس سبھی سیکوٹا میں پائے جاتے ہیں۔خواتین میں حیض کے ایام میں رحم اور دمچی میں شدید کھینچنے والا درد ہوتا ہے۔وضع حمل کے وقت اور بعد میں تشنجی دورے پڑتے ہیں۔سیکورٹاوروسا میں چھونے سے ، ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے، چوٹوں سے اور تمباکو کے دھوئیں سے بیماریاں بڑھ جاتی ہیں اور گرمی سے آرام آتا ہے۔دافع اثر دوائیں اوپیم اور آرنیکا : طاقت : 6 سے 200 پوٹینسی تک