ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 292 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 292

سیکوٹا وروسا 292 بے تعلق ہو جاتا ہے۔اس بیماری میں یہ دوا بہت اہم ہے۔Catalepsy اور Apoplexy میں یہ فرق ہے کہ Apoplexy میں مریض دماغ میں خون جمنے کے نتیجہ میں بالکل بے حس و حرکت اور مفلوج سا ہو جاتا ہے۔Catalepsy میں گو بظاہر غافل دکھائی دیتا ہے لیکن اس سے کوئی بات کی جائے تو اس کا درست جواب دیتا ہے۔بعد ازاں اسے بالکل یاد نہیں رہتا کہ کیا ہوا تھا۔حال کے واقعات کو ماضی سے ملا دیتا ہے۔پرانے دوست کومل کر بہت حیران ہوتا ہے کہ شائد اس سے پہلے بھی کبھی مل چکا ہو۔سیکوٹا ور وسا اس بیماری میں بہت مفید ہے جس میں سر اور گردن کے عضلات تشنج کی وجہ سے پیچھے کی طرف کھینچ جاتے ہیں۔سیکوٹا ور وسا میں تشنج گردن کے پیچھے ہوتا ہے اور مریض پیچھے کی طرف کمان کی طرح اکٹر جاتا ہے۔اس کے علاوہ دماغ کے درم (Meningitis)۔پیدا ہونے والی ایشٹھن کے لئے بھی بہت مفید دوا ہے۔مرگی کے دورہ میں اگر مریض غش کھا کر پیچھے کی طرف گرے تو اس میں بھی یہی دوا کام آئے گی۔گو یا مرگی سے ملتی جلتی بیماریوں میں اور چوٹ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی تکلیفوں میں اس کی مخصوص علامتوں کو پیش نظر رکھنا چاہئے۔یاد رہے کہ اس کا شیخ مرکز سے باہر کی طرف حرکت کرتا ہے۔سیکوٹا کی ذہنی علامات نیٹرم میور سے مشابہ ہیں۔اگر بوڑھے آدمیوں میں آرٹیرسکلر وسس (Arteriosclerosis) کی وجہ سے شریا نہیں تنگ ہو جائیں اور دماغ میں خون کا دوران پوری طرح سے نہ ہو تو ایسے مریضوں کا معدہ خراب ہونے پر برین فیگ Brainfag) ( یعنی وقتی طور پر یادداشت کا غائب ہو جانا ) کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔اس میں نکس وامیکا مفید ہے۔سیکوٹا وروسا کی بیماریاں اعصاب سے تعلق رکھتی ہیں۔اگر معدے میں اعصابی شیخ ہو تو پھر یہ دوا ہو گی ورنہ نہیں۔سیکوٹا دروسا کے مریض کی ایک ذہنی علامت یہ ہے کہ بعض اوقات زیادہ گیا گذرا مریض کھانے پینے کی چیزوں کے مزہ میں فرق نہیں کر سکتا۔مزہ چکھنے کے غدود متاثر ہوتے ہیں ، زود حسی کی