ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 271

کیمومیلا 271 کیمومیلا میں اکثر درد گرمی سے آرام پاتے ہیں۔سوائے دانتوں، چہرے اور جبڑے کے اعصاب کے جنہیں ٹھنڈ سے آرام ملتا ہے۔کیمومیلا کے مریض کے اعصاب ڈھکے چھپے ہوں تو انہیں گرمی سے آرام آئے گا۔اگر اعصاب کے کنارے نگے ہوں تو وہاں گرمی سے تکلیف ہو گی۔یہ سب تفصیلات عموماً کتابوں میں درج نہیں ہوتیں۔معالجین کو باریک بینی سے سب علامات کا جائزہ لینا چاہئے تا کوئی الجھن دماغ میں نہ رہے اور صحیح دوا تک رسائی ممکن ہو جائے۔کیمومیلا کے دانت کے درد میں ایک خاص بات یہ ہے کہ رات کو شروع ہو کر صبح تک غائب ہو جاتا ہے۔عموماً رات کے پہلے حصہ میں زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔بارہ ایک بجے کے بعد جب رات صبح کی طرح پلٹ جائے تو در دختم ہونے لگتا ہے۔آرسنک کے دانت درد کا ساری رات سے تعلق ہے۔کیمومیلا میں مسوڑھے سوج جاتے ہیں، چھالے بنتے ہیں اور دانت مسوڑھوں کو چھوڑ نے لگتے ہیں۔وہ لوگ جو دانتوں کی صفائی میں بداحتیاطی سے کام لیتے ہیں عموماً ان تکلیفوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔کیمومیلا کے مزاج کی یہ مستقل علامت ہے کہ اس کے مریضوں میں فراخ دلی کی کمی ہوتی ہے، طبیعت میں کسی قدر خساست پائی جاتی ہے۔کسی دوسرے کی پرواہ نہیں کرتے ، نہ کسی کی تکلیف محسوس کرتے ہیں نہ کسی کی ضرورت کا خیال رکھتے ہیں لیکن ہر وقت اپنے معاملہ میں بے حد ز و دجس ہوتے ہیں۔ہر وقت اپنی ہی ذات سے چمٹے رہتے ہیں اور صرف اپنا ذاتی مفاد ہی پیش نظر رہتا ہے۔دوسروں پر اچانک غصہ آنا بھی اسی مزاج کا حصہ ہے۔کیمومیلا کی تکلیفیں نیٹرم میور کی طرح صبح نو بجے زیادہ ہو جاتی ہیں۔بعض اوقات رات کو نو بجے بھی علامات تیز ہو جاتی ہیں۔مریض کے کانوں میں شور کی آواز میں آتی ہیں، پٹاخے بجتے ہیں اور کان ہوا کے جھونکوں کے لئے بہت حساس ہو جاتے ہیں اور تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں۔ویسے مریض کھلی ہوا کو پسند کرتا ہے لیکن کا نوں کو ڈھانپ کر باہر نکلتا ہے۔جو لوگ عام طور پر مفلر باندھ کر باہر نکلتے ہیں وہ یا تو بہت سردی محسوس کرتے