ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 212
کلکیر یا سلف 212 اٹھانے سے بیمار پڑ جائیں۔اگر چہرہ پر خون کا دباؤ بہت زیادہ ہو جائے اور شدید سنج پیدا ہو اور تشیخی رجحان صرف چہرہ پر ہی نہیں بلکہ جسم کے مختلف اعضاء میں بھی پایا جائے، چھاتی ، بازو، ٹانگ یا سر میں بھی اچانک خون کا دباؤ اور جکڑنے کا احساس ہو تو کلکیر یا سلف بھی علامتیں ملنے پر بہت مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ہڈیوں کی دردوں میں بھی مفید ہے۔گلینڈز کی سوزش اور عضلات کے پھڑ کنے میں بھی کلکیر یا سلف کام آتی ہے خصوصاً اگر چہرے کے اعصاب پھڑ کنے لگیں۔کمزور اعصاب کے مریضوں میں ذہنی دباؤ ہو اور عضلات ذہنی دباؤ کی وجہ سے پھڑکنے لگیں تو اس مرض میں کلکیر یا سلف کے علاوہ ایگیریکس اور کالی فاس بھی مفید ہیں۔مریض کی تکلیف کھڑے ہونے سے بڑھتی ہے۔بعض دفعہ وہ عورتیں جو کھڑے ہو کر کھانا وغیرہ بناتی ہیں ان میں یہ علامت نمایاں طور پر پائی جاتی ہے۔کلکیر یا سلف میں شروع میں تو چلنے سے مریض کو آرام آتا ہے لیکن چلنے کے بعد جب خون گردش میں آتا ہے اور ٹانگیں گرم ہو جاتی ہیں تو اس کی تکالیف بڑھ جاتی ہیں۔کلکیر یا سلف کا مریض عموماً اندیشوں کی حالت میں صبح آنکھ کھولتا ہے۔یہ علامت کلکیر یا سلف کی دوسری علامتوں کے ساتھ مل کر اسے یقینی بنادیتی ہے۔ذہنی محنت سے دماغ جلد تھک جائے یا چکر آنے لگیں اور چکر کے ساتھ مرگی سے مشابہ دورے پڑنے لگیں تو بھی کلکیر یا سلف مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔آنکھوں کی بیماریوں میں اگر چیزیں دو دو نظر آنے لگیں اور روشنی آنکھوں میں چھے تو اس دوا کو یا درکھیں۔بڑی عمر میں کانوں میں ہر طرح کی آوازیں آنے لگیں تو بھی یہ دوا مفید ہے۔کلکیر یا سلف میں مستقل جاری نزلہ ہوتا ہے جو آ کر ٹھہر ہی جاتا ہے اور اندرونی جھلیوں کو گلا دیتا ہے۔ایسے مستقل نزلاتی مریض بہت تکلیف دہ زندگی گزارتے ہیں۔اگر دیگر علامتیں ملتی ہوں تو اس بیماری کے لئے یہ تیر بہدف دوا ثابت ہوتی ہے۔کلکیر یا سلف زبان کے کھچاؤ اور سختی کے لئے بھی مفید ہے یعنی یہ فالجی کیفیت پر