ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 203
کلکیریا آیوڈائیڈ 203 49 کلکیر یا آیوڈائیڈ CALCAREA IODIDE (Iodide of Lime) کلکیر یا آیوڈائیڈ خاص طور پر غدودوں سے تعلق رکھنے والی دوا ہے۔غدودسوج کر موٹے ہو جاتے ہیں۔یہ علامت کئی دواؤں میں پائی جاتی ہے۔جب لڑکیاں بلوغت کی عمر کو پہنچیں اور ان کے گلے کے غدود (Thyroid Glands) پھول جائیں تو اس وقت کلکیر یا آیوڈائیڈ کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔کلکیریا کا خصوصیت سے اس دور سے تعلق ہے۔ایسی بچیوں کو بلاتا خیر یہ دوادینی چاہیئے۔کلکیر یا آیوڈائیڈ میں رحم کی رسولیاں بھی پائی جاتی ہیں۔عام طور پر بچوں اور بعض دفعہ بڑوں میں ناک اور کان کی اندرونی جھلیاں پھول جاتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی تھیلیاں سی بن جاتی ہیں۔اگر ناک میں ایسی علامتیں پیدا ہوں تو مریض بہت خراٹے لینے لگتا ہے۔ایسی صورت میں کلکیر یا آیوڈائیڈ بہت کارآمد بتائی جاتی ہے لیکن 30 طاقت میں اسے دو تین ماہ تک استعمال کرنا چاہئیے۔غدود موٹے ہو جائیں تو ایک دم چھوٹے نہیں ہو سکتے۔کلکیر یا آیوڈائیڈ کے زخموں میں مزمن ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے۔کالی آیوڈائیڈ میں یہ رجحان اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔اس میں زخم آ کر ٹھہر جاتے ہیں۔کلکیر یا آیوڈائیڈ میں بال گرنے کا مرض بھی ملتا ہے۔بال گرنے سے روکنے کے لئے کوئی ایسی دوا نہیں ہے جو بالعموم ٹکسالی کے نسخے کے طور پر استعمال کی جاسکے۔ایک ضروری بات یا درکھیں کہ عموماً کلکیریا کے بعد سلفر نہیں دی جاتی کیونکہ اس سے نقصان پہنچتا ہے لیکن کلکیر یا آیوڈائیڈ کے بعد سلفر آیوڈائیڈ بہترین کام کرتی ہے۔