ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 196

196 کلکیریا کارب کے اثر سے بعض دفعہ آنکھوں کے رستے اور بعض دفعہ کانوں کے رستے اچانک پانی خارج ہونا شروع ہو جاتا ہے۔کبھی ایک آنکھ یا کان سے بکثرت پانی بہہ کر بچے کا تکیہ گیلا کر دیتا ہے اور اس طرف سے سر چھوٹا ہونے لگتا ہے۔پھر چند دن کے بعد یہی عمل دوسری طرف شروع ہو جائے گا۔اس بیماری کا جسے انگریزی میں ہائیڈرو کیفیس (Hydrocephalous) کہتے ہیں، بسا اوقات میں نے انہی دو دواؤں سلیشیا اور کلکیریا کارب سے ایسے متعدد بچوں کا کامیاب علاج کیا ہے۔اگر بیماری کافی زیادہ آگے بڑھ چکی ہو تو کلکیریا کارب اونچی طاقت میں مفید ثابت ہوسکتی ہے مگر ضروری نہیں۔آنکھ کے کورنیا میں بعض دفعہ سفید مواد آ جاتا ہے جو آہستہ آہستہ بہنے لگتا ہے اگر انفیکشن پرانی ہو تو مواد میں زردی آجاتی ہے۔ایسی صورت میں بعض اور مشابہ دواؤں کے علاوہ کلکیریا کارب بھی مفید ہے۔اگر کان کا مواد زرد رنگ کا ہو تو کلکیریا کارب کے دوا ہونے کا امکان اور بھی بڑھ جاتا ہے۔کان کے پردوں میں پیدا ہونے والی کمزوری یا آہستہ آہستہ ظاہر ہونے والا بہرہ پن جس میں کان رفتہ رفتہ آوازوں کی تمیز کرنا چھوڑ دیتا ہے کلکیریا کارب کا تقاضا کرتا ہے۔بعض اور دوائیں بھی مثلاً چینوپوڈیم (Chenopodium) مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔آنکھوں کی تھکاوٹ اور دباؤ سے پیدا ہونے والی کمزوری میں بھی کلکیریا کارب اچھی دوا ہے لیکن اونو سموڈیم (Onosmodium) آنکھوں کی تھکاوٹ کے لئے زیادہ موثر ہے۔اس میں سر میں درد بھی ہوتا ہے جو آ کر ٹھہر جاتا ہے لیکن زیادہ شدت اختیار نہیں کرتا۔اگر جلسیم 200 بھی ساتھ ملا کر دیں تو غیر معمولی فائدہ ہوتا ہے۔بعض دفعہ موسم بدلنے سے طبیعت بوجھل اور پڑ مردہ ہو جاتی ہے۔فضا میں کوئی ایسا اثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے جسم وقتی طور پر کمزوری محسوس کرتا ہے۔کلکیریا کارب چونکہ مستقل اور لمبا عرصہ چلنے والی بیماریوں کی دوا ہے اس لئے ایسی مستقل بیماریوں میں کلکیریا کارب کی شفایابی کا عمل بھی آہستہ ہوتا ہے اور لمبے عرصہ تک وقفہ ڈال ڈال کر دینی پڑتی ہے۔کلکیریا کارب کے مریضوں میں انڈا کھانے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔علاوہ ازیں