ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 175
بوفو 175 جاتی ہے۔مریض میں رفتہ رفتہ ہکلانے اور تھتھلانے کا رجحان پیدا ہو جاتا ہے۔مریض کی بات سمجھنی مشکل ہو جاتی ہے جو اسے غصہ دلاتی ہے۔ایسا مریض جس میں مرگی کی معروف علامتیں نہ پائی جاتی ہوں لیکن مریض بیٹھے بیٹھے ساکت و جامد ہو جاتا ہو، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہوں اور مریض ہر چیز سے بے نیاز ہو جاتا ہو، بوفو اس کیفیت کے لئے بہترین دوا ہے۔یہ کیفیت وقتی طور پر ہوتی ہے۔جب مریض کے ہوش وحواس بحال ہو جائیں تو اسے علم نہیں ہوتا کہ اسے کیا ہوا تھا۔چونکہ بونو کی مرگی کا جنسی کمزوری سے بھی تعلق ہے۔اس لئے بعض مریضوں کو ہم بستری کے وقت بھی مرگی کا دورہ پڑ جاتا ہے۔اس کی مریض عورتوں میں حیض وقت سے بہت پہلے آتے ہیں یا بالکل بند ہو جاتے ہیں۔رحم میں جلن اور شیخ کے رجحان کے ساتھ چھالے نکل آتے ہیں جن سے گندا مواد رس رس کے پیپ یا خون ملا لیکوریا خارج ہوتا ہے جو گینگرین کے مادہ کی طرح سخت بد بودار ہوتا ہے۔ان علامات میں یہ دوا بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔یہ چھاتی کے کینسر میں بھی مفید ہے۔مکمل شفا بخش تو نہیں ہے لیکن آرام دیتی ہے اور دوسری دواؤں کی مددگار بن جاتی ہے اور تکلیف کو کم کر دیتی ہے۔بوفو کی کھانسی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔بلغم کے ساتھ خون کا اخراج بھی ہوتا ہے اور جلن کا احساس بہت نمایاں ہوتا ہے۔اس کی بیماریاں بہت تیزی سے بڑھتی ہے اور پھیلتی ہیں اور مریض جلد موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔اس کی تکالیف گرم کمرے اور نیند سے جاگنے پر بڑھتی ہیں جبکہ نہانے اور گرم پانی میں پاؤں رکھنے سے افاقہ ہوتا ہے۔مددگار دوائیں : برائیٹا کارب دافع اثر دوائیں : میس۔سینیگا طاقت : 30 سے 200 اور اونچی طاقتیں