ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 151
بر برس 151 بر برس میں وجع المفاصل (Rheumatism) یعنی عام بڑے جوڑوں کے درد سے زیادہ گاؤٹ (Gout) یعنی ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں کے جوڑوں کے درد کی علامت پائی جاتی ہے۔پنجوں اور ہاتھوں کی انگلیوں وغیرہ میں جو درد ہوتے ہیں ان کا بنزوئیک ایسڈ (Benzoic Acid) کی طرح بر برس سے بھی گہرا تعلق ہے۔کولہوں یا ٹانگ کا دردکھڑے ہونے پر شروع ہو جاتا ہے اور تھوڑا سا چلنے سے ہی ٹانگ درد سے بھر جاتی ہے۔پاؤں میں بھی خصوصاً ایڑیوں اور تلووں میں تکلیف ہوتی ہے۔نقرس Gout) کے دردوں میں بعض دفعہ بنزوئیک ایسڈ ، بر برس کا بہترین متبادل ثابت ہوتا ہے۔ان دونوں دواؤں کو ادل بدل کر بھی دیا جا سکتا ہے۔بر برس کے بارے میں اچھے ہومیو پیتھک معالجین بتاتے ہیں کہ جگر کی خرابی کے نتیجہ میں اگر دل کمزور ہو تو یہ پہلے جگر ٹھیک کرتی ہے پھر دل بھی خود ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔اگر جسم میں کہیں تیزابی مادے اور یوریا وغیرہ جمع ہو جائیں تو یہ دوا ان کو وہاں سے ہلاتی رہتی ہے اور خون میں شامل کرتی ہے پھر ان کو گردوں کے ذریعہ باہر نکال دیتی ہے۔خون میں تیزابی مادے شامل ہو جائیں تو وقتی طور پر دل بھی متاثر ہو سکتا ہے اور جب تک یہ تیزابی مادے خارج نہ ہو جائیں دل میں احساس رہتا ہے ورنہ اس دوا کا براہ راست دل کی بیماریوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اگر بر برس کے استعمال کے دوران دل پر برا اثر پڑے تو مریض کو زیادہ پانی پلانا چاہئے تا کہ پیشاب زیادہ آئے اور فاسد مادے اور تیزاب پیشاب کے ذریعہ تیزی سے خارج ہوں اور دل کو تنگ نہ کریں۔تشیخ کے دوران بر برس کے مریض کی بے اختیار چینیں نکل جاتی ہیں۔بر برس کے نقرس کے درد حرکت سے بڑھتے ہیں۔مریض زمین پر آہستہ آہستہ پاؤں رکھتا ہے اور اس کی تکلیف دور ہونے میں کچھ وقت لگتا ہے۔سر کے اوپر کسی چیز کے لیٹنے کا احساس ہوتا ہے۔گلونائن میں بھی سر پر پٹی بندھی ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ٹوپی اور بند کالر نا قابل برداشت ہوتے ہیں لیکن بر برس میں سر پر کچھ بھی نہ ہو پھر بھی کچھ بندھے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔سورائینم کے مریض کی