ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 142

بیلاڈونا 142 یہ علامت ہے۔ایسی صورت میں پلسٹیلا اور بیلا ڈونا ملا کر دینا مفید رہتا ہے۔بعض دفعہ ایسی چھپا کی کا معدہ سے بھی تعلق ہوتا ہے۔اگر معدہ خراب ہو اور اس کے نتیجہ میں چھپا کی ہوتو پلسٹیلا اور نکس وامیکا کام آتی ہیں۔بیلاڈونا میں جلد پر سرخ دھبے اور پیپ والے زخم ظاہر ہوتے ہیں، سوزش بھی ہوتی ہے جو ایپس سے مشابہ ہوتی ہے جلد پر ظاہر ہونے والے دانوں اور چھالوں سے بھی دواؤں کی پہچان ممکن ہے مگر اس کے علاوہ بعض اور علامتیں بھی مددگار ہو جاتی ہیں۔آرم ٹرائی فیلم بھی چھپا کی کی بہت اچھی دوا ہے لیکن اس کی ایک علامت ہے کہ ناک میں اور ہونٹوں کے ارد گرد کھجلی ہوتی ہے۔بیلا ڈونا کا کلکیریا کارب سے بھی تعلق ہے خصوصاً نیم مزمن بیماریوں میں۔جہاں بیلا ڈونا کام کرنا چھوڑ دے وہاں کلکیریا کارب بہت کارآمد دوا ہے۔بعض دفعہ بیلاڈونا کی علامتیں سلفر کی طرف منتقل ہو جاتی ہیں اور سلفر کلکیریا کارب کی علامتیں پیدا کر دیتا ہے۔کلکیریا کارب بہت سی دواؤں کا جنکشن یعنی مقام اتصال ہے لیکن اگر کلکیریا کارب کے بعد سلفر دیں تو نقصان دہ ہے۔اس لئے دونوں کے بیچ میں لائیکو پوڈیم دینا ضروری ہے۔البتہ سلفر کے بعد کلکیریا کارب براہ راست دی جاسکتی ہے۔بیلا ڈونا کی علامات میں چھونے ، جھٹکا لگنے، شور وغل اور ہوا کے جھونکوں سے اضافہ ہو جاتا ہے۔نیم دراز ہونے کی حالت میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔مددگار دوائیں : کلکیریا کارب۔ایکونائٹ۔سلفر دافع اثر دوائیں: کیمفر۔کافیا۔اوپیم۔ایکونائٹ طاقت : 30 سے سی۔ایم (CM) تک