ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 140 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 140

بیلاڈونا 140 بیلا ڈونا آنکھوں کی بیماریوں کے لئے بھی بہت مفید دوا ہے۔آنکھیں غیر معمولی سرخ ہو جاتی ہیں اور پیوٹے سوج جاتے ہیں۔آنکھوں کے سامنے تارے ناچتے ہیں۔ایک خاص علامت یہ ہے کہ آنکھیں بالکل خشک رہتی ہیں جبکہ یوفریزیا (Euphrasia) میں سرخی کے ساتھ پانی بہتا ہے۔بیلا ڈونا اور یوفریز یا سرخی کی علامت اور شدت میں مشابہت رکھتی ہیں لیکن یوفریز یا میں اتنی زیادہ سوزش نہیں ہوتی البتہ تیز پانی بہتا ہے۔آنکھ کے بلڈ پریشر میں بیلاڈونا بہت مفید ہے۔ایک مریض جس کی آنکھوں کی بلڈ پریشر کی تکلیف اتنی بڑھ گئی تھی کہ ڈاکٹروں نے اسے لا علاج قرار دے دیا تھا اور خطرہ ظاہر کیا تھا کہ مزید دباؤ بڑھنے سے خلیے پھٹ سکتے ہیں جس سے مریض مستقل اندھا ہو سکتا ہے۔جو نسخہ میں نے اس مریض کو دیا اس کا مرکزی جز و بیلاڈونا تھا۔حیرت انگیز طور پر ایک ہفتہ کے اندر آنکھ کا بلڈ پریشر اعتدال کی طرف مائل ہو گیا اور اب وہ مریض بالکل صحت یاب ہو چکا ہے۔جلسیمیم بھی آنکھ کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے مفید ہے اور کالے موتیا کی بھی مؤثر دوا ہے۔اس کے ساتھ کلکیر یا فاس 6x میں دینا چاہئے۔نکس وامیکا اور بیلاڈونا دونوں میں کیو پرم کا مادہ پایا جاتا ہے اور کیو پرم تشیخ کی بہترین دواؤں میں سے ہے۔اگر دماغ کے اعصابی ہیجان کی وجہ سے جسم کانپنے لگے یا خون کا دباؤ بہت بڑھ جائے۔اس وقت اس دباؤ کو کم کرنے کے لئے بیلا ڈونا استعمال ہوتا ہے اور یہ مؤثر اور فوری دوا ہے۔بعض دفعہ بیلاڈونا کی پیاس برائیو نیا سے ملتی ہے یعنی بہت شدید پیاس لیکن پانی پینے سے تسکین نہیں ملتی اور بعض دفعہ آرسنک کی طرح منہ خشک ہوتا ہے اور مریض تھوڑا تھوڑا پانی پی کر پیاس بجھانے کی کوشش کرتا ہے۔آرسنک اور برائیو نیا کی دوسری علامتیں بیلا ڈونا سے مختلف ہیں مگرمنہ کی خشکی میں تینوں مشترک ہیں۔بیلا ڈونا مزاج کی عورتوں میں کھٹی چیزیں کھانے کا شوق ہوتا ہے۔اسہال لگ جائیں تو مقدار میں بالکل تھوڑے ہوتے ہیں۔بیلا ڈونا میں بواسیر کے مسے بھی پائے جاتے ہیں۔پیشاب بار بار آنے کی بیماری میں