ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 139
بیلاڈونا 139 ہومیو پیتھک اثر دکھانے کی بجائے اس اصل زہر کی علامتیں اس مریض میں پیدا کر دیتی ہیں جس زہر سے وہ ہو میو پیتھک دوا بنائی گئی تھی۔جو دوائی بھی دیں اس کی علامتیں مریض میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔اس پہلو سے اس کو احتیاط سے دوا دینی پڑتی ہے اور دوا کی طاقت کم کرنی پڑتی ہے لیکن ان کی اس زود حسی کا علاج بھی ضروری ہے۔تین دوائیں ایسی ہیں جو ایسی زود حسی کو دور کر سکتی ہیں۔بیلا ڈونا نکس وامیکا اور زنکم میٹ۔زنکم میٹ سب سے زیادہ حساس دوا ہے، اتنی حساس کہ اس کا مریض بعض دفعہ چھوٹی طاقت کی دوا بھی قبول نہیں کر سکتا اس لئے ایسے مریض کو پہلے زنگ دینا چاہئے جس سے جسم میں دوسری دوائیں قبول کرنے کی صلاحیت پیدا ہو جائے گی مگر زنک بھی چھوٹی طاقت سے شروع کرنا چاہئے مثلاً 30 طاقت میں۔بیلا ڈونا کی ایک علامت جلسیمیم سے مشابہ ہے۔مریض کے سردرد کو پیچھے کی طرف سر جھکانے سے آرام آتا ہے اور اگر سامنے کی طرف جھکا ئیں تو تکلیف بڑھتی ہے لیکن اس میں بعض دفعہ استثناء بھی ہوتے ہیں۔ایسے مریض کو بیلا ڈونا یا جلسیمیم دینا چاہئے۔بعض اوقات ناک میں جمے ہوئے نزلاتی مواد یا سائینس (Sinus) کے اندر جمے ہوئے مواد کے باعث ہونے والے سر درد کی طرف سر جھکانے سے بڑھ جاتے ہیں۔عام طور پر بیلا ڈونا وقتی بیماری کی دوا ہے جو تکلیف فی الفور آئے وہ فوراً کافور بھی ہو جاتی ہے لیکن کبھی کبھی سر در دختم ہونے کے بعد بھی کئی کئی دن سر میں بوجھل پن اور تھکاوٹ کا احساس رہتا ہے۔بال کٹوانے اور حجامت بنوانے سے بھی سر میں درد شروع ہو جاتا ہے۔بیلاڈونا میں آرام کرنے سے آرام آتا ہے اور حرکت سے تکلیف بڑھتی ہے۔بیلا ڈونا کی اکثر مزاجی تکلیفیں اوپر سے نیچے کی طرف اترتی ہیں۔اگر سر ٹھیک ہو جائے تو جوڑوں اور اعصاب میں اوپر سے نیچے کی طرف در دیں حرکت کریں گی۔نیچے سے اوپر کی طرف حرکت کرنے والی بیماریوں کے علاج میں لیڈم (Ledum) نمایاں شہرت رکھتی ہے۔