ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 794 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 794

ٹیر مینٹولا 794 ہوتی ہے، آنکھیں نہیں کھلتیں اور روشنی سے زود سی کے ساتھ کنپٹیوں اور گدی میں بہت درد ہوتا ہے۔ٹیر مینٹولا کی نیٹرم میور سے یہ مشابہت ہے کہ سر پر چھوٹے چھوٹے ہتھوڑے پڑنے کا احساس ہوتا ہے۔آنکھ کی بیماریوں کا اثر دائیں طرف زیادہ ہوتا ہے۔دائیں آنکھ میں دھند اور نظر کی کمزوری کے علاوہ دائیں آنکھ سے مواد نکلتا ہے۔دائیں کان میں شدید درد ہوتا ہے۔ناک کے دائیں نتھنے میں ایک نزلاتی مرکز بن جاتا ہے جہاں سے نزلہ کا آغاز ہوتا ہے۔گلے میں بھی دائیں طرف تکلیف نمایاں ہوتی ہے۔خوراک سے نفرت اور بے دلی، ٹھنڈے پانی کی پیاس اور متلی بھی خصوصیت سے ٹیر مینٹولا کی علامتیں ہیں۔گلے کی خرابی کی وجہ سے باہر بھی سوزش نمایاں ہو جاتی ہے۔ٹیر مینولا میں شدید اور مسلسل قبض رہتی ہے جس کی وجہ سے مریض سخت بے چینی محسوس کرتا ہے، کروٹیں بدلتا ہے اور تکیہ کے ساتھ سر رگڑتا ہے۔بعض دفعہ انیا اور اسہال کی دواؤں سے بھی اسے افاقہ نہیں ہوتا۔بسا اوقات غم اور فکر سے ذیا بیطیس ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں اگر سارے جسم میں خصوصاً ٹانگوں اور بازوؤں میں دکھن کا احساس بھی ہوتو ٹیریٹولا دوا مفید ثابت ہوسکتی ہے۔وقتی فائدہ ہی نہیں دیتی بلکہ اللہ کے فضل سے مکمل شفا بھی بخشی سکتی ہے۔ٹیرینولا گردوں کے شیخ میں جو پتھریوں یا سوزش وغیرہ سے ہو، بہت مفید ہے۔اگر گردے کے اردگرد کو لہے کے اوپر کمر کے پاس در دنمایاں ہو اور پیشاب میں جلن ہولیکن مقدار میں زیادہ ہو اور اچانک جکڑن کی علامت پائی جائے تو غالباً ٹیر مینولا ہی دوا ہوگی۔اگر عورتوں میں جلن کے ساتھ شدید خارش رحم کے اندر تک جاتی ہوئی محسوس ہو تو اس تکلیف کو بھی ٹیر مینٹولا سے آرام آ سکتا ہے۔رحم میں غدود کا بڑھ جانا ، رحم کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا ، ڈھیلا ہو کر لٹک جانا اور نیچے گرنے کا احساس اور رحم کا دباؤ برداشت نہ کر سکنا یہ تمام علامتیں ٹیر مینٹولا میں پائی جاتی ہیں۔