ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 777 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 777

سٹر نشیم کارب 777 178 سٹر نوشیم کاربونیکم STRONTIUM CARBONICUM سٹر نشیم کارب عمل جراحی کے بعد پیدا ہونے والی علامات میں بہت مفید ہے۔سر جن کو چاہئے کہ آپریشن کے دوران اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھے کیونکہ جولوگ آپریشن کے صدمہ سے اچانک مفلوج سے ہو جاتے ہیں اور موت کے قریب پہنچ جاتے ہیں ان کے لئے سٹر شیم کارب بہت اچھی ثابت ہوتی ہے۔حادثات میں شدید زخمی ہو جانے سے بھی اگر جسم اچانک جواب دے جائے تو یہی دوا اکسیر ثابت ہوتی ہے۔چوٹیں لگنے اور صدمہ پہنچنے پر آرنیکا ایک ہزار کی طاقت میں دستور کے طور پر دے دی جائے تو اچھی چیز ہے لیکن اگر حادثات کے صدمہ سے مریض ایک دم بے جان سا ہو جائے تو ایسی صورت میں تو سٹر نشیم کا رب کے علاوہ کار بوو یج فوری خطرہ سے نکالنے میں جادو اثر دوا ہے۔سٹر نشیم کا رب اور کار بو ویج دونوں اس پہلو سے ایک دوسرے کی رقیب دوائیں ہیں۔بعض ڈاکٹر یہ فرق کرتے ہیں کہ اپریشن کے بعد صدمہ پہنچے تو سر نشیم کا رب دیتے ہیں اور عام بیماریوں یا حادثات کے نتیجہ میں پہنچنے والے صدمہ میں کار بوو پیج۔لیکن یہ کوئی فیصلہ شدہ امر نہیں ہے، ہاں روزمرہ کے دستور کے مطابق اپریشن کے بداثرات میں سٹر و نشیم کا رب کو اہمیت دینی چاہئے۔عموماً اس سے بظا ہر مرتے ہوئے جسم میں نئی جان پڑ جاتی ہے۔جسم گرم ہو جاتا ہے اور مریض آرام سے سو جاتا ہے۔اگر فائدہ نہ ہو تو کار بو ویج ضرور دیں۔مریض کی وہ آخری حالت جس میں جسم کا دفاعی نظام تقریباً بے کار ہو جاتا ہے اور رد عمل باقی نہیں رہتا اور مریض موت کے کنارے پہنچ جاتا ہے، کار بوویج کا تقاضا کرتی ہے جو مریض کو واپس زندگی کی طرف لوٹا دیتی ہے۔جسم کا دفاعی نظام بیدار ہو جاتا ہے اور دوسری دواؤں کے اثر کو قبول کرنے