ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 709
رسٹاکس 709 ہو۔فاسفورس میں بھی یہ علامت ملتی ہے۔بے وجہ آنکھ کھلتی ہے۔بظاہر اچھا بھلا ہونے کے باوجود نیند کا احساس مٹ جاتا ہے۔پیشاب کی کثرت کی وجہ سے نیند نہیں آتی۔بعض دفعہ سوتے میں بھی پیشاب نکل جاتا ہے۔بغیر ذیا بیطس کے رات کو آرام کے وقت پیشاب کی حاجت بہت زیادہ ہو اور کوئی دوسری معین وجہ معلوم نہ ہو تو جسمانی بے چینی کی صورت میں غالباً رسٹاکس مؤثر ثابت ہوگی۔اگر جلدی بیماریاں تیز دواؤں سے دبا دی جائیں تو بالعموم جھلیوں پر انتڑیوں پر یا غدودوں پر حملہ آور ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ نہایت سنگین صورت اختیار کر لیتی ہیں۔اگر لبلبہ (Pancreas) پر ان کا حملہ ہوتو ایسے مریض کوسخت قسم کی ذیا بیس ہو جاتی ہے۔اونچی طاقت میں رسٹاکس کی ایک ہی خوراک اندرونی تکلیفوں کو فور ارفع کرتی ہے مگر اس صورت میں پرانے ایگزیما کو جلد پر ضرور اچھال دیتی ہے۔میں نے ذیا بیطس کے ایک مریض کو بعض علامات کی مشابہت کی وجہ سے اونچی طاقت میں رسٹاکس دی۔اچانک اس کا سارا جسم ایگزیما سے بھر گیا لیکن ذیا بیطیس سے مکمل شفا ہوگئی۔تحقیق سے پتہ چلا کہ کسی زمانہ میں اسے سخت ایگزیما ہوا تھا جسے مختلف دواؤں سے دبا دیا گیا تھا۔اس کے بعد ذیا بیطیس ہوگئی۔پس رسٹاکس دینے سے ذیا بیطیس تو ٹھیک ہوگئی مگر ایگزیما لوٹ آیا۔بعض مریض ذیا بیطس ٹھیک ہونے سے اتنا مطمئن نہیں ہوتے جتنا ایگزیما دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ صبر سے کام لیں تو بسا اوقات رسٹاکس ہی سے اس جلدی بیماری کا علاج بھی ہو جاتا ہے جو خود اس نے باہر نکال دی ہو اور وہی اس کا مکمل صفایا بھی کر دیتی ہے۔مگر شروع میں ایگزیما ایک دفعہ ضرور بھڑکتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ کم ہونے لگتا ہے۔رسٹاکس کے ایگزیما میں پانی بہت بہتا ہے۔اسے رونے والا (Weeping) ایگزیما کہتے ہیں۔میرے پاس ایک دفعہ ایک بہت غریب مریضہ آئی جس کے ہاتھوں پر بہنے والا سخت تکلیف دہ ایگزیما تھا۔وہ روز مرہ کا کھانا پکانے سے بھی معذور تھی۔خاوند اور بچے بھی اس وجہ سے سخت تکلیف میں مبتلا تھا۔میں نے اسے ایک ہزار میں رسٹاکس دی تو حالت مزید بگڑ گئی لیکن چند دنوں میں پانی خشک ہونے لگا۔اگلے ہفتہ دوبارہ رسٹاکس دینے