ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 694
پلسٹیلا 694 ہو جاتی ہے اور ایسے مریض ساری عمر کے لئے اولاد سے محروم ہو جاتے ہیں۔ایسی صورت میں سب سے پہلے ابراٹینم دینی چاہئے۔اس سے ٹھیک نہ ہو تو پھر پلسٹیلا دیں۔ان دونوں دواؤں میں ایک مشابہت یہ ہے کہ ان کے جسم کے درد ادھر ادھر گھومتے ہیں۔ابراٹینم (Abrotanum) کے درد ہر طرف گھومتے ہیں۔پلسٹیلا کے درد ایک خاص سمت یعنی دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں حرکت کرتے ہیں۔لیک کینا ئینم (Lac Canium) میں بھی یہ علامت پائی جاتی ہے اور اس کے درد بھی بہت تیزی سے حرکت کرتے ہیں۔ابراٹینم میں بسا اوقات مرض کی نوعیت کسی دوسری مرض میں بدل جاتی ہے۔اگر پھیپھڑوں کا کینسر ہڈیوں میں چلا جائے تو ایسی صورت میں انتقال مرض کی دواؤں کو پیش نظر رکھنا چاہئے اور ابراٹینم بھی استعمال کی جاسکتی ہے لیکن سب سے مؤثر دوا فاسفورس (Phosporus) ہے اور کینسر ہڈیوں ہی سے شروع ہوا ہو یا ہڈیوں میں منتقل ہوا ہو ، دونوں صورتوں میں فاسفورس بہترین دوا ثابت ہوگی۔پلسٹیلا میں کھانا کھانے کے چند گھنٹے بعد معدے کی تکلیفیں شروع ہوتی ہیں۔بے چینی ، کھٹے ڈکار، ہوا سے پیٹ کا بھر جانا وغیرہ وغیرہ نکس وامیکا میں بھوک کی حالت میں تکلیفیں بڑھتی ہیں اور کھانا کھانے کے بعد کچھ عرصہ تو آرام رہتا ہے مگر تقریباً ایک گھنٹہ کے اندر اندر تکلیف واپس آ جاتی ہے۔پلسٹیلا کے مریض کا منہ خشک رہتا ہے لیکن اسے پیاس نہیں لگتی۔صفراوی مادہ بہت کثرت سے بنتا ہے اور ابکائی کے ساتھ منہ میں آ جاتا ہے۔چکنائی کھانے سے پیٹ میں تناؤ پیدا ہو جاتا ہے۔سبزی مائل پانی کی طرح بہت پہلے اسہال آتے ہیں اور رات کے وقت زیادہ آتے ہیں۔قبض کے باوجود نرم اجابت پلسٹیلا کا خاصا ہے کی ما صا ہے لیکن کھل کر نہیں ہوتی۔بار بار حاجت ہونے کے باوجود فراغت کا احساس نہیں ہوتا۔نکس وامیکا میں بھی یہی علامت ہے لیکن اس میں اجابت نرم ہونے کی بجائے سخت گٹھلیوں کی صورت میں ہوتی ہے۔عورتوں میں قبض کی علامت بعض دفعہ گریفائٹس سے ملتی ہے۔اس صورت میں اجابت نرم نہیں ہوگی بلکہ سخت اور بڑے جمے ہوئے فضلے کی صورت میں۔پلسٹیلا کی