ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 690 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 690

پلسٹیلا 690 سے وہ تنزل پذیر ہیں۔ایسا وہم پلسٹیلا کا خاصہ ہے۔لائیکو پوڈیم کے بداثرات جن کی وجہ سے انسان بے حد شرمیلا ہو جائے حتی کہ اپنے سائے سے بھی ڈرے تو اسٹیلا ان کا تریاق ہے۔بسا اوقات پلسٹیلا کی مریض عورتوں کو شادی سے نفرت ہو جاتی ہے۔اگر شادی سے نفرت نمایاں طور پر پائی جائے اور کوئی دوسری نفسیاتی وجہ معلوم نہ ہوتو پلسٹیلا دینی چاہئے۔پلسٹیلا کا معدے کی تکلیفوں سے بھی تعلق ہے۔تیل، گھی اور چربی والی مرغن غذا ہضم نہیں ہوتی۔ذراسی ملائی یا گھی کھانے سے معدہ جواب دے جاتا ہے۔بعض دفعہ ایسے مریض چکنائی سے نفرت کرنے لگتے ہیں لیکن اگر نفرت نہ بھی ہو تو چکنائی والی غذا انہیں ہضم نہیں ہوتی۔کار بود یج اور بعض اور دواؤں میں بھی یہ علامت ملتی ہے۔پلسٹیلا میں پیاس نہیں ہوتی لیکن ٹھنڈا پانی پینے سے سکون ملتا ہے۔ٹھنڈا کھانا کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔معدے کی تکلیفیں صبح کے وقت زیادہ ہو جاتی ہیں اور ذہنی تکلیفیں شام کو بڑھ جاتی ہیں۔عموماً ڈیپریشن اور اداسی کے دورے بھی شام کو ہی پڑتے ہیں۔ایسے مریضوں کے لئے یہ وقت بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ٹھنڈی ہوا میں اور ملکی حرکت کرنے سے مریض کو آرام ملتا ہے اور گرم کمرے میں جانے سے تکلیف بڑھ جاتی ہے۔مریض کی اندرونی سردی کی کیفیت گرم کمرے میں جا کر اور بھی شدت اختیار کر لے گی۔پلسٹیلا میں یہ عجیب تضاد پایا جاتا ہے کہ بظاہر جسم گرم ہوتا ہے لیکن مریض اندرونی طور پر سردی محسوس کرتا ہے اور گرم کمرے میں جانے کے باوجو دسردی کا احساس کم نہیں ہوتا بلکہ زیادہ ہو جاتا ہے۔پلسٹیلا کا اثر سلفر سے زائل ہو جاتا ہے۔ہاتھ پاؤں کی جلن کے سوا پلسٹیلا کی دوسری علامتیں سلفر سے نہیں ملتیں۔اگر سلفر زیادہ مقدار میں استعمال کی گئی ہو تو پلسٹیلا دیں اور پلسٹیلا زیادہ دی ہوتو سلفر دینے سے اس کا اثر زائل ہو جائے گا۔اگر سورائس ( چنبل) چھوٹے چھوٹے دائروں کی شکل میں ظاہر ہو اور دانے دبے ہوئے بھورے رنگ کے ہوں تو ایسی سورائس میں پلسٹیلا اچھا اثر رکھتی ہے۔