ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 683
سورا ئینم 683 اگر بیماری بہت بڑھ جائے اور آنکھ کی شکل بگڑنے لگے تو ایلیو مینا اور ایپلیوسن بالمثل دوائیں ثابت ہوسکتی ہیں۔خصوصاً ایلیو مینا بہت گہرا اثر کرنے والی دوا ہے۔اگر آنکھوں میں سوزش ہو اور گومڑ سے بن جائیں تو ایلیو مینا کی بجائے ایسکولس (Aesculus) بہتر ہے۔آنکھوں کی بیماریاں ان ملتی جلتی دواؤں کے استعمال سے عموماً ٹھیک ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ چھپر موٹے ہو کر اوپر کی طرف الٹ جاتے ہیں اور اندر کی سرخی با ہر نمایاں دکھائی دینے لگتی ہے۔آنکھیں بہت بھیانک شکل اختیار کر لیتی ہیں اور پلکیں جھڑنے لگتی ہیں۔ان میں بھی سورائیم ، ہسپر سلف اور ایلیو مینا کو اونچا مقام حاصل ہے۔سورائیم میں ایسا کام جس میں ناک بند رہتا ہے، بار بار ہوتا ہے۔ناک میں بندش کے باوجود جلن کے ساتھ پیکی زردی مائل سبز رنگ کی رطوبت بہتی ہے جس سے جلن کو قدرے سکون ملتا ہے۔انفلوئنزا کے وائرس شکلیں بدل بدل کر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں۔ایسی صورت میں سورا ئینم بھی کچھ عرصہ فائدہ پہنچا کر اثر کرنا چھوڑ دیتی ہے کیونکہ بیماری کی علامتیں بدل جاتی ہیں۔لہذا نزلاتی بیماریوں میں کسی ایک دوا پر انحصار ممکن نہیں۔علامتیں بدلیں تو دوا بدلنی بھی ضروری ہوگی۔سورا ئینم ٹھنڈے مزاج کے مریضوں کی دوا ہے۔ٹھنڈ سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر اپنا اثر بہت تیزی سے دکھاتی ہے۔مزید برآں سورائینم دبی ہوئی امراض کو باہر نکالنے کی طاقت بھی رکھتی ہے۔پس جن مریضوں کو سورا ئینم خود ٹھیک نہ کر سکے تو ان کی اصل علامتوں کو جو کسی اور دوا سے تعلق رکھتی ہوں ، ابھار کر معالج کی مدد کرتی ہے۔اگر سورائینم کچھ فائدہ دے کر رک جائے تو گھبرانا نہیں چاہئے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ دوا کی تشخیص غلط ہے۔سورائینم کی یہ عادت ہے کہ کچھ فائدہ پہنچا کر انتظار کرتی ہے۔پھر کچھ وقفہ ڈال کر دوبارہ سورا ئینم دینے سے رکا ہوا فائدہ جاری ہو جاتا ہے۔سورا میکنم میں مریض ہر وقت بھوکا رہتا ہے خصوصا رات کو بہت بھوک لگتی ہے اور یہ عجیب علامت ہے کہ رات کے پچھلے پہر محض بھوک سے آنکھ کھل جاتی ہے۔کھانا کھانے سے مریض کی تکلیف میں کمی ہو جاتی ہے۔سلفر کے مریض کو رات کو اور صبح کو